site
stats
اہم ترین

رحمان ملک نے شریف خاندان کے خلا ف دستاویزات جمع کرادیں

اسلام آباد: پیپلز پارٹی رہنما ء رحمان ملک کا کہنا ہے کہ پچھلے پندرہ روز سے مجھ اور میری پارٹی پر مک مکا کے الزامات لگ رہے تھے‘ ان سب الزامات کا جواب جے آئی ٹی کے سامنے جمع کرا کر آیا ہوں۔

تفصیلات کے مطابق جمعے کے روز جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیرداخلہ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ میری رپورٹ کی بنیاد پر پی ٹی آئی والے روز میچ جیت رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نہ میں کسی کو ختم کرنے آیا ہونہ کسی کو برباد کرنے آیا ہوں ‘ میں نے یہ رپورٹ اس وقت کے صدر رفیق تارڑ کے سامنے بھی پیش کی تھی۔

رحمان ملک کا میڈیا سے کہنا تھا کہ سابق صدر کو لکھے خطوط اور دستاویزات جے آئی ٹی کے سامنے پیش کردی ہے ‘ جب جے آئی ٹی کی کارروائی عوام کے سامنے پیش کی جائیں گی تو یہ سب بھی آپ کے سامنے آجائے گا‘ رحمان ملک نے یہ بھی کہا کہ نہ سیکیورٹی طلب کی اور نہ ہی سیکیورٹی دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی نے مک مکا کرلیا ہے اور رحمان ملک ‘ نوا ز شریف کو بچا لے گا۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال تھا کہ میں جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوں گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے ذرائع ہوں تو وہ جان سکتے ہیں کہ میں قانون اور آئین کا احترام کرتا ہوں اور قوم پر کتنا بڑا احسان کرکے آیا ہوں۔


جےآئی ٹی حتمی رپورٹ 10 جولائی کو جمع کرائے، سپریم کورٹ


رحمان ملک سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی حیثیت سے جے آئی ٹی کےسامنے پیش ہوئے‘ انہوں نےسال 1994-95میں شریف خاندان کے خلاف تحقیقات کی تھیں ۔

سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے رحمان ملک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے شریف خاندان کے حدیبیہ پیپرملز کیسز کے بارے بیان اور پس منظر ریکارڈ کرایا۔

یاد رہےکہ گزشتہ روزپانامالیکس، جےآئی ٹی عملدرآمد کیس میں سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو حتمی رپورٹ 10 جولائی کو جمع کرانے کا حکم دیاتھا۔

واضح رہےکہ کل وزیراعظم نوازشریف کے داماد کیپٹن(ر) صفدر جے آئی ٹی کو اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top