The news is by your side.

Advertisement

ریکوڈک معاہدے پر 25 فی صد حصہ بلوچستان کا ہوگا: شوکت ترین

اسلام آباد: وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ریکوڈک کان کے لیے غیر ملکی کمپنی بیرک گولڈ کے ساتھ 50 فی صد شیئر کے تحت معاہدہ ہو گیا ہے، جس میں 25 فی صد حصہ بلوچستان کا ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق اتوار کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزرا نے ریکوڈک ذخائر کے سلسلے میں ایک نئے معاہدے کی تفصیلات بتائیں، وزیر خزانہ نے کہا ہم یہ معاہدہ نہ کرتے تو 11 ارب ڈالر جرمانہ لگ جانا تھا، لندن کی عدالت اور عالمی ثالثی عدالت کا مجموعی جرمانہ تقریباً 11 ارب ڈالر تھا۔

شوکت ترین نے بتایا کہ کینیڈین مائننگ کمپنی بیرک گولڈ معاہدے کے تحت 10 ارب ڈالر خرچ کرے گی، معاہدہ ففٹی پرسنٹ شیئرز پر ہے، جب کہ پچیس فی صد شیئر بلوچستان کو ملے گا، یہ شیئربلوچستان کے عوام کے لیے تحفہ ہے۔

ریکوڈک: وزیر اعظم کی جانب سے قوم کے لیے بہت بڑی خوش خبری

وزیر خزانہ کے مطابق ریکوڈک میں تاخیر پر ملک کو معاشی نقصان پہنچا، اس معاہدے سے آئندہ 100 سال تک بلوچستان کو فائدہ ہوگا، اور اس سے 8 ہزار نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔

وزیر توانائی حماد اظہر نے بتایا کہ ریکوڈک مائنز کی دنیا میں تانبے اور سونے کا سب سے بڑا ذخیرہ تصور کیا جاتا ہے، جس کا دروازہ آج کھل گیا ہے، زمین سے سونا نکالنے کا اعزاز بھی پی ٹی آئی حکومت کو حاصل ہو گیا ہے۔

انھوں نے کہا یہ معاہدہ مزید جامع بنانے کے لیے پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ میں بھی پیش ہوگا، بیرک گولڈ دنیا کی سب سے بڑی گولڈ مائننگ کمپنی ہے، حماد اظہر نے کہا کہ ریکوڈک کا یہ صرف ایک حصہ ہے جسے دریافت کیا گیا ہے، باقی رقبہ اس سے زیادہ ہے، نئے معاہدے کے تحت 25 فی صد حصہ وزارت پیٹرولیم اور پی پی ایل کا ہوگا۔

وفاقی وزیر نے کہا ریکوڈک میں زمین کے اوپر لوگ غریب ہیں اور نیچے سونے کا خزانہ ہے، آنے والے سالوں میں دنیا کا منافع بخش سیکٹر ڈیولپ ہونے جا رہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں