The news is by your side.

موہن جو دڑو کے آثار زیر آب آ گئے

لاڑکانہ: موہن جودڑو کے آثار کو نقصان کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے کیوں کہ سندھ میں شدید بارشوں کی وجہ سے آثار زیر آب آ گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سندھ میں طوفانی بارشوں سے قدیم تہذیب موہن جو دڑو کے آثار زیر آب آ گئے، اور پانی مختلف مقامات پر جمع ہو گیا۔

موہن جو دڑو سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا، محکمہ آثار قدیمہ کے ایک افسر نے بتایا کہ بارش رکنے پر ہی نکاسی کا کام شروع کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ رواں ماہ شدید مون سون بارشوں کے بعد وادئ سندھ کی اس تہذیب کے ساڑھے چار سے پانچ ہزار سال قدیم شہر موہن جو دڑو کی مٹی سے ایک قدیم مورتی برآمد ہوئی تھی۔

محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق لاکٹ کے طور پر پہنے جانے والی اس مورتی کی لمبائی 42.93 ملی میٹر، چوڑائی 16.46 ملی میٹر اور وزن چھ گرام ہے، اور یہ درمیان سے ٹوٹی ہوئی ہے، یہ مورتی کاپر کی طرح کی ایک دھات کی بنی ہوئی ہے جس میں اوپر ایک چھوٹا سا سوراخ بھی موجود ہے، جس کا مطلب ہے کہ اسے لاکٹ کی طرح پہنا جاتا ہوگا۔

واضح رہے کہ اندرون سندھ بارشوں سے زندگی کا پہیہ جام ہو گیا ہے، دادو شہر اور گرد و نواح میں موسلادھار بارش نے تباہی مچا دی ہے، جانی اور مالی نقصانات سامنے آئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں