site
stats
پاکستان

سال 2018: حج پالیسی کا اعلان، 1 لاکھ 79 ہزار فیس مقرر، ایک ماہ کا قیام

اسلام آباد: وفاقی مذہبی امور سردار محمد یوسف نے نئی حج پالیسی کا اعلان کردیا، جس کے مطابق آئندہ سال سرکاری حج پر 1 لاکھ 79 ہزار 210 روپے کے اخراجات آئیں گے جبکہ سعودی عرب میں قیام کا دورانیہ 40 سے کم کر کے 30 دن کردیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے ذریعے حج پالیسی کا اعلان کرتے ہوئےوفاقی وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا کہ ’ہماری حکومت سے پہلے حج انتظامات انتہائی ناقص تھے اس لیے عوام نے موجودہ حکومت کی حج پالیسی پر اعتماد کا اظہار کیا‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہماری حکومت سے پہلے حج انتظامات انتہائی ناقص تھے کیونکہ عازمین کو حرم شریف سے دور رہائش دی گئی جبکہ کھانے کے بھی ناقص انتظامات کیے گئے تھے، عدالتی فیصلے کی روشنی میں محکموں کی کمیٹی نےحج پالیسی پرنظرثانی کی‘۔

سردار یوسف نے کہا کہ ’سال 2015 میں حج پیکج کم کر کے 2 لاکھ 64 ہزار روپے کیا گیا جبکہ سن 2016 میں سرکاری پیکج 2 لاکھ 78 ہزار روپے مقرر کیا گیا جس میں کو مکہ مدینہ سفر کے لیے لگژری بسیں فراہم کی گئیں اور رہائشی مقامات پر وائی فائی (انٹرنیٹ) کی سہولت بھی دی گئی‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ حکومت نے حجاج کو میڈیکل کی سہولیات اور 3 وقت کا اچھا کھانا فراہم کیا جبکہ میدانِ عرفات میں حجاج کو کوائر کولر بھی فراہم کیے گئے جس کی وجہ سے عوام نے سرکاری حج اسکیم پر اعتماد کا اظہار کیا۔

حج پالیسی برائے سال 2018

سردار یوسف کا کہنا تھا کہ سن 2018 کے لیے حج کوٹہ 1 لاکھ 79 ہزار 210 روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ شمالی ریجن کے لیے یہ پیکج 2 لاکھ 80 ہزار اور جنوبی ریجن کے لیے 2 لاکھ 70 ہزار روپے میں ہوگا تاہم قربانی کے لیے علیحدہ سے 13 ہزار 50 روپے جمع کروانے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکیم کے تحت عازمین کا کوٹہ ایک لاکھ 20 ہزار جبکہ نجی پرائیوٹ سطح پر 69 ہزار 210 افراد کو حج کی اجازت دی جائے گی، حج کے دورانیہ کو 38 دن سے کم کر کے ایک ماہ تک کردیا گیا ہے‘۔

سردار یوسف نے کہا کہ ’آئندہ سال سرکاری اسکیم کے تحت حج پر جانے والے خواہش مند افراد کی درخواستیں 15 سے 24 جنوری تک وصول کی جائیں گی جبکہ حجاج کاانتخاب شفاف اندازمیں قرعہ اندازی کےذریعےکیا جائے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top