The news is by your side.

Advertisement

’بھارت کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے نہ کرنے کا فیصلہ آئندہ 6 ماہ میں ہوگا‘

واشنگٹن: امریکی سفیر برائے مذہبی آزادی کا کہنا ہے کہ بھارت کو مذہبی آزادی کی ریڈ لسٹ میں شامل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ آئندہ 6 ماہ میں ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق مذہبی آزادی سے متعلق امریکا نے بین الاقوامی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے، جس کے حوالے سے امریکی سفیر برائے مذہبی آزادی رشاد حسین نے محکمہ خارجہ میں پریس بریفنگ دی۔

امریکی سفیر برائے مذہبی آزادی رشاد حسین نے مذہبی آزادی سے متعلق پریس بریفنگ میں کہا کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

رشاد حسین نے محکمہ خارجہ میں پریس بریفنگ میں بتایا کہ وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بھارت میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر بات کی ہے، کچھ بھارتی حکام عبادت گاہوں پر حملوں کی حمایت کر رہے ہیں، آج ہم نے موجودہ صورت حال پر جامع رپورٹ جاری کی ہے۔

اے آر وائی نیوز کی جانب سے سوال کیا گیا کہ بھارت کو امریکا مذہبی آزادی کی ریڈ لسٹ میں شامل کیوں نہیں کر رہا؟ جواب میں رشاد حسین نے کہا کہ بھارت کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کی وجوہ موجود ہیں، ریڈ لسٹ میں شامل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ آئندہ 6 ماہ میں کیا جائے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ میں توہین مذہب بل پر ہمارے تحفظات ہیں۔

رشاد حسین نے کہا کئی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے لیے برداشت کم ہوتی نظر آ رہی ہے، حکومتوں کو مذہبی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ انٹونی بلنکن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ بھارت میں مذہبی آزادی کے حالات پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے، بھارت میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر حملے بڑھ گئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں