site
stats
پاکستان

مختلف مذہبی جماعتوں کا جنرل راحیل شریف کی اتحادی فوج کے کمانڈر بننے پر تحفظات کا اظہار

اسلام آباد : مختلف مذہبی جماعتوں نے جنرل راحیل شریف کی اتحادی فوج کے کمانڈر بننے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

جمعیت علماءپاکستان کے صدرڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے بیان میں کہا ہے کہ اتحادی فوج میں راحیل شریف کی شرکت سے پاکستان کا غیر جانب دارانہ کردار متاثر ہوگا۔

ڈاکٹر ابوالخیر زبیرنے کہا کہ پاکستان کو تمام اسلامی ممالک میں عزت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اس اقدام سے اس کی یہ مسلمہ حیثیت مجروح ہو گی ۔جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف اتنا بڑا قدم بغیر حکومت کی رضا مندی کے نہیں اٹھا سکتے لہذا حکومت بتائے کہ اتنے بڑے اقدام کی اس نے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری حاصل کی یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف صاحب صرف اپنا احسان چکانے کےلئے پاکستان کی اس مسلمہ حیثیت کو مجروح نہ کریں۔

سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ پاکستان کو ایران سعودی کشیدگی میں فریق نہیں بننا چاہیئے، مسلم فوجی اتحاد کا سربراہ بننے کیلئے جنرل (ر) راحیل شریف کی شرائط خوش آئند ہیں۔


مزید پڑھیں : سابق آرمی چیف نے غیرملکی ملازمت کے لیے کوئی درخواست نہیں‌دی: خواجہ آصف


یاد رہے کہ گذشتہ روز وزیر دفاع خواجہ آصف نے سینٹ میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سابق آرمی چیف عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب گئے تھے تاہم دو دن قبل وہ وطن لوٹ آئے ہیں، سابق چیف جنرل راحیل شریف نےغیرملکی ملازمت کے لئے حکومت کو کوئی درخواست نہیں دی۔ انہوں  نے سینٹ کے سامنے یہ بھی کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد آرمی چیف کوغیرملکی ملازمت کے لئے وزارت یا ادارے سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔


مزید پڑھیں : سابق آرمی چیف کن شرائط پر اسلامی اتحاد کے سربراہ بنے؟


یاد رہے کہ چند روز قبل وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک نجیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق آرمی چیف راحیل شریف کی 39 اسلامی ممالک کی سربراہی کےحوالے سے گردش کرتی خبرکی تصدیق کی تھی۔

سابق آرمی چیف گزشتہ برس نومبر میں اپنے عہدے کی مدت مکمل کرکے ریٹائر ہوگئے تھے ‘ ان کی ریٹائرمنٹ سے ایک سال سے ہی یہ اطلاعات گردش کررہی تھیں کہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بننے والے 39 اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کی سربراہی کریں گے جس کا صدر مقام ریاض ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top