The news is by your side.

Advertisement

مذہبی سیاسی جماعت کا احتجاج، پولیس اہلکاروں اور افسران پر بدترین تشدد

اسلام آباد: گذشتہ روز سے ملک بھر میں جاری مذہبی سیاسی جماعت کے دھرنے میں تشدد کا عنصر بھی شامل ہوگیا ہے، احتجاجی مظاہرے میں سیکیورٹی پر مامور پولیس افسران اور اہلکاروں کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز مذہبی سیاسی جماعت کے دھرنے اور احتجاج کے دوران ملک کے کئی شہروں میں جلاؤ گھیراؤ کیا گیا، سرکاری اور نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔

مشتعل افراد کی جانب سے تھانے پر دھاوا بولا گیا اور پولیس موبائل وین کو آگ لگائی گئی ، یہی نہیں احتجاجی مظاہرین نے ڈیرہ غازی خان میں سیکیورٹی پر مامور پولیس افسران اور اہلکاروں پر بدترین تشدد کیا۔

احتجاجی مظاہرین کے تشدد سے پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے مظاہرین نے ڈیوٹی پر مامور پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی وردی تک پھاڑ ڈالی اور انہیں ڈنڈوں سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔

پنجاب پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ روز احتجاج کےدوران ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ چالیس سے زائد افسران اور اہلکاز زخمی ہوئے، شہید کانسٹیبل محمد افضل تھانہ گوالمنڈی میں تعینات تھا جو شاہدرہ موڑ آپریشن میں دوران احتجاج شہید ہوا۔

رپورٹ کے مطابق کرول گھاٹی میں دوران احتجاج میں پولیس کے چالیس افسران واہلکار زخمی ہوئے، زخمیوں میں ڈی ایس پی قلعہ گجر سنگھ ،ایس ایچ اور گڑھی ،ایس ایچ او گجر پورہ بھی شامل ہیں، زخمی پولیس اہلکار کوٹ خواجہ سعید اسپتال اور میو اسپتال ودیگر میں زیر علاج ہیں۔

افسوسناک واقعے پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی امور علامہ طاہر اشرفی نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ تشدد کوئی بھی کرے قابل مذمت اور قابل افسوس ہے، احتجاج کی آڑ میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا اور تشدد کسی طورپر جائز نہیں ہے۔

علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ پرامن طور پر احتجاج کیا جائے گا تو کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے؟پولیس والے بھی آپ کے اور ہمارے ہی بھائی ہیں، بطور انسان کسی کو مارنا سر پھاڑنے کا حق کسی کو نہیں ہے موجودہ صورت حال میں دیکھنا چاہیےکہ ہمارے ہر ایک عمل کو دنیا کس نظر سے دیکھتی ہے؟

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی امور نے اے آر وائی سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ عقیدہ ختم نبوت پر ٹی ایل پی کے مطالبات کی ہم نے پہلے بھی تائید کی تھی، ہم آج بھی کہہ رہےہیں اس معاملے پر حکومت اقدامات کررہی ہے، اسلامو فوبیا کے معاملے پر وزیراعظم نے دنیا میں آواز بلند کی، سیرت مصطفیٰﷺ کو سامنے رکھ کر ہمیں آگے بڑھنا چاہیے۔

موجودہ احتجاج پر علامہ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ لوگوں کو افطار،سحری کی تیاری کرنی ہے،بازار بند ہونگے تو کیسے تیاری کرینگے؟، مذہبی قیادت اور حکومت سےاپیل ہے کہ ایک دوسرے کے معاون بنیں، ہمیشہ مذاکرات اور پرامن احتجاج سے ہی مسائل حل ہوئےہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں