پیر, جنوری 19, 2026
اشتہار

معروف مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کو اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا

اشتہار

حیرت انگیز

معروف مذہبی اسکالر، یوٹیوب پر 3 ملین سے زائد سبسکرائبرز رکھنے والے انجینئر محمد علی مرزا کو 5 دسمبر 2025 کو اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا۔

یہ رہائی لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے 3 دسمبر 2025 کے فیصلے پر عمل میں آئی، جس میں ان کی ضمانت کی درخواست منظور کی گئی تھی، عدالت نے جیل انتظامیہ کو ہدایت کی تھی کہ اگر وہ کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہ ہوں تو انہیں فوری رہا کیا جائے۔

انجینئر محمد علی مرزا کو 26 اگست 2025 کو جہلم پولیس نے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس 1960 کی سیکشن 3 کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ گرفتاری ان کی مبینہ طور پر توہین مذہب کی ویڈیوز پر مبنی تھی، جو ان کے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کی گئی تھیں۔

گرفتاری کے بعد نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے انہیں تحویل میں لے لیا تھا۔ ابتدائی قانونی کارروائیوں کے بعد 18-19 سپتمبر 2025 کو انہیں راولپنڈی کے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تھا اس کے علاوہ ان کی ریسرچ اکیڈمی "قرآن و سنت” جہلم کو بھی سیل کر دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال محرم کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی کے خدشے کے پیشِ نظر اس وقت کے جہلم ڈپٹی کمشنر نے انجینئر محمد علی مرزا سمیت 17 علما کے بیانات نشر کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔

مارچ 2021 میں محمد علی مرزا ایک مذہبی اکیڈمی میں قاتلانہ حملے میں بال بال بچے تھے، حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور اس کے خلاف اقدامِ قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

مزید برآں، مئی 2020 میں جہلم پولیس نے بعض مذہبی شخصیات کے خلاف مبینہ توہین آمیز بیانات کے الزام میں مقدمہ درج کرکے انجینئر محمد علی مرزا کو گرفتار بھی کیا تھا، تاہم بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

انجینئر محمد علی مرزا گرفتار، جیل منتقل کردیا گیا

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں