The news is by your side.

Advertisement

استاد نصرت فتح علی خان کا 71واں یوم پیدائش

لاہور: پاکستان کے لیجنڈری قوال اور گائیک نصرت فتح علی خان کا 71 واں یومِ پیدائش منایا جارہاہے، اُن کی مدھر آواز میں پڑھے کلام آج بھی شائقین کے کانوں میں رس گھولتے ہیں۔

صوفی اور قوالی کی دنیا میں اپنا منفرد مقام بنانے والے نصرت فتح علی خان 13 اکتوبر 1984 کو فیصل آباد میں استاد فتح علی خان کے گھر پیدا ہوئے۔

موسیقی کے گھرانے میں پیدا ہونے والے بچے نے روز بچپن سے ہی وراثتی کام سنبھالا اور والد کے ساتھ کئی پروگراموں میں شرکت کی، ابتدائی دنوں میں وہ صرف تالیاں بجانے کا کام کرتے تھے مگر وقت کے ساتھ گائیکی کی تربیت بھی حاصل کی اور دنیا بھر میں اپنی آواز کا جادو جگایا۔

نصرت فتح علی نے موسیقی کی ابتدائی تربیت اپنے والد اور اپنے تایا استاد مبارک علی خان سے حاصل کی، والد کے انتقال کے بعد تایا کے ساتھ پہلی باقاعدہ پرفارمنس دی جسے شائقین نے بہت سراہا۔

استاد نصرت فتح علی خان طویل عرصے تک روایتی طور پر صرف قوالیاں گاتے رہے مگر پھر وقت کے ساتھ نئی جہت کو قوالی میں شامل کیا اور پاپ و کلاسیکل موسیقی کا انوکھا امتراج بھی پیش کیا، یہ انوکھا تجربہ لوگوں کو بہت زیادہ پسند آیا۔

نصرت فتح علی خاں کی عالمی شہرت کا آغاز 1980ء کی دہائی کے آخری حصے سے اُس وقت ہوا جب پیٹر جبریل نے ان سے مارٹن اسکورسس کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ کا ساؤنڈ ٹریک تیار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔یہ اُن کی فنی زندگی کے نئے سفر کا آغاز تھا، 90 کی دہائی میں انہوں نے پاکستان اور ہندوستان میں اپنی موسیقی کی دھوم بھی مچائی۔ انہیں کئی بھارتی فلموں کی موسیقی ترتیب دینے اور ان میں گائیکی کا مظاہرہ کرنے کی دعوت بھی دی گئی۔

بین الاقوامی جریدے ٹائم میگزین نے 2006 میں نصرت فتح علی خان کا نام ایشین ہیروز کی فہرست میں شامل کیا۔

استاد نصرت فتح علی خان کے پاس بین الاقوامی اعزاز ہے کہ انہوں نے قوال کی حیثیت سے ایک سو پچیس آڈیو البم ریلیز کیے،  اسی باعث اُن کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی درج ہے۔

ویسے تو نصرت فتح علی خان نے کئی قوالیاں، غزلیں اور صوفیانہ کلام پڑھے البتہ دم مست قلندر مست، علی مولا علی، ہلکا ہلکا سرور، میرا پیا گھر آیا، کسے دا یار نہ بچھڑے وغیرہ قابل ذکر ہیں، علاوہ ازیں استاد نے مظفر وارثی کی تحریر کردہ مشہور زمانہ حمد ’’وہی خدا ہے‘‘ کو پڑھ کر اسے مزید شہرت بخشی۔

اُن کی شخصیت اور فن کے حوالے سے یورپ میں کئی کتابیں لکھی گئیں، اسی طرح جاپان میں 1992 کو شہنشاہ قوالی کے نام سے بھی کتاب شائع کی گئی۔

قوالی کے اس بے تاج بادشاہ حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا‘ اس کے علاوہ دیگر کئی ممالک اور اقوام متحدہ نے ان کی شاندار فنی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں متعدد سرکاری اعزازات سے نوازا۔

استاد نصرت فتح علی خان گردوں کے عارضے سمیت مختلف امراض میں مبتلا ہونے کے باعث صرف 49 سال کی عمر میں 16 اگست 1997 کو لندن کے ایک اسپتال میں وفات پا گئے تھے ، انہیں اپنے آبائی علاقے فیصل آباد میں سپرد خاک کیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں