The news is by your side.

Advertisement

پاک فضائیہ کے ہیرو ایم ایم عالم کی آج 7 ویں برسی

کراچی : جنگ ستمبر میں دشمن کےدانت کھٹے کرنے والے پاک فضائیہ کےبہادرسپوت ایم ایم عالم کودنیا سے رخصت ہوئے سات برس بیت گئے، ایم ایم عالم کی جرأت اوربہادری پرانہیں ستارہ جرأت سےنوازاگیا۔

تفصیلات کے مطابق پاک فضائیہ کے ہیرو ایم ایم عالم کی سات ویں برسی آج عقیدت اور احترام سے منائی جارہی ہے، محمد محمود عالم 6 جولائی 1935 کو کلکتہ میں پیدا ہوئے، ثانوی تعلیم 1951 میں سندھ گورنمنٹ ہائی اسکول ڈھاکہ (سابقہ مشرقی پاکستان ) سے مکمل کی اور 1952 میں پاکستان ائیرفورس میں شامل ہوئے۔

ایم ایم عالم 2 اکتوبر 1953 کو کمیشنڈ عہدے پرفائز ہوئے، ان کے بھائی ایم شاہد عالم نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی میں معاشیات کے پروفیسر جبکہ ایک بھائی ایم سجاد عالم البانی میں طبعیات دان تھے۔

پاک فضائیہ کی تاریخ کا درخشندہ ستارہ محمد محمود عالم المعروف ایم ایم عالم نے 1965 کی پاک بھارت جنگ میں ایسی تاریخ رقم کی جو ہمیشہ یادرکھی جائے گی۔

پاک بھارت جنگ میں سرگودھا کے محاذ پرپانچ بھارتی ہنٹر جنگی طیاروں کوایک منٹ کے اندراندر مار گرایا تھا ، جن میں سے چار ابتدائی تیس سیکنڈ کے اندر مارگرائے گئے تھے اوریہ ایک عالمی ریکارڈ تھا۔

اس جنگ کے دوران ایم ایم عالم نے مجموعی طورپر دشمن کے نو طیارے مار گرائے اور دو طیاروں کو شدید نقصان پہنچایا، ان کا یہ کارنامہ نہ صرف پاک فضائیہ بلکہ جنگی ہوا بازی کی تاریخ کا بھی ایک معجزہ تصور کیا جاتا ہے۔

وطن کے اس عظیم ہیرو کو ان کے تاریخ ساز کارنامے پر دو مرتبہ ستارہ جرأت کا اعزاز عطاکیاگیا جبکہ لاہور کے علاقہ گلبرگ میں ایک اہم سڑک کا نام ایم ایم عالم روڈ رکھا گیا۔

سن 1967 میں ایم ایم عالم کا تبادلہ بطوراسکواڈرن کمانڈر برائے اسکواڈرن اول کے طور پر ڈسالٹ میراج سوئم لڑاکا طیارہ کے لیے ہوا، جو کہ پاکستان ایئرفورس نے بنایا تھا جبکہ 1969 میں ان کو اسٹاف کالج کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

سن 1972 میں انہوں نے 26ویں اسکواڈرن کی قیادت دو مہینے کے لیے کی اور 1982 میں ریٹائر ہو کرکراچی میں قیام پذیرہوئے، قوم کے قابل فخر سپوت ایم ایم عالم 18 مارچ 2013 کو کراچی میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئےتھے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں