کبھی شہرت کو سنجیدہ نہیں‌ لیا، اپنی ذات کے لیے لکھتا ہوں: ممتاز ادیب مستنصر حسین تارڑ‌ کا
The news is by your side.

Advertisement

کبھی شہرت کو سنجیدہ نہیں‌ لیا: ممتاز ادیب مستنصر حسین تارڑ‌ کا خصوصی انٹرویو

کراچی: عہد ساز ادیب مستنصر حسین تارڑ‌ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ذات کے لیے لکھتے ہیں، لکھتے ہوئے کبھی شہرت کا دباؤ محسوس نہیں‌ ہوا، کیوں‌ کہ انھوں نے کبھی شہرت کو سنجیدہ نہیں‌ لیا.

ان خیالات کا اظہار انھوں‌ نے کراچی میں اے آر وائی نیوز کی ویب سائٹ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا.

مستنصر حسین تارڑ کا کہنا ہے کہ دیگر اصناف کے برعکس وہ ناول لکھتے ہوئے خود کو زیادہ مطمئن محسوس کرتے ہیں.

انھوں نے اپنے عصروں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے اشفاق احمد کو پاکستانی ٹیلی ویژن کی تاریخ‌ کا سب سے بڑا ڈراما نگار قرار دیا. ان کا کہنا تھا کہ انتظار حسین کے بغیر اردو ادب کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی. عبداللہ حسین کے پاس وہ تمام تجربات تھے، جو بڑے ادیب تخلیق کرنے کے لیے درکار ہوسکتے ہیں.

انھوں نے روحی بانو کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا خلا واقعی کبھی پورا نہیں ہوگا.

مزید پڑھیں: ناول دھماکا نہیں کرتا، بلکہ آہستہ آہستہ قاری میں سرایت کر جاتا ہے: مستنصر حسین تارڑ

ان کا اپنی تخلیقات سے متعلق کہنا تھا کہ ’’بہاؤ‘‘  جیسا ناول اب خود بھی نہیں لکھ سکتا، اپنا آخری ناول ’’منطق الطیر جدید‘‘ لکھتے ہوئے اسی تخلیق تجربے سے گزرا، جس سے بہاؤ کے وقت گزرا تھا۔

تفصیلی انٹرویو ویڈیو میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔

ٹیلی ویژن اور ادبی دنیا کی ممتاز اور ہر دل عزیز شخصیت، مستنصر حسین تارڑ کا خصوصی انٹرویو

ٹیلی ویژن اور ادبی دنیا کی ممتاز اور ہر دل عزیز شخصیت، مستنصر حسین تارڑ کا خصوصی انٹرویو

Posted by ARY News Urdu on Friday, February 8, 2019

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں