The news is by your side.

Advertisement

شامی مہاجرین کو واپس وطن بھیجنا خطرناک ہوسکتا ہے، جرمنی

برلن : جرمن وزارت خارجہ نے کہاہے کہ جرمنی میں ملک بدری کے حکومتی فیصلوں میں گزشتہ برس اضافہ ہوا تاہم کئی پناہ گزینوں کو واپس ان کے ملک روانہ نہیں کیا جاسکا۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک رپورٹ میں جرمن وزارت خارجہ نے کہا کہ شامی مہاجرین کو ملک بدر کر کے وطن واپس بھیجنا خطرے سے خالی نہیں۔

نومبر2019 تک جرمن حکام کی طرف سے ملک بدری کے مستحق قرار دیے گئے افراد کی تعداد ڈھائی لاکھ کے لگ بھگ تھی تاہم 2019 میں اس سے پچھلے سال کے مقابلے میں کم افراد کی ملک بدری عمل میں آئی۔

گزشتہ برس 20,587 پناہ گزین ملک بدر ہو پائے جبکہ سن دو ہزار اٹھارہ میں 23,617 افراد کو ملک بدر کیا گیا۔

حکام کے مطابق ملک بدری کے احکامات پر عمل در آمد میں بڑی رکاوٹ سفری دستاویزات کی عدم دستیابی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق متعلقہ افراد کی اگر شہریت کا تعین نہ ہو سکے، تو ان کے آبائی ممالک ان کے سفری دستاویزات جاری نہیں کرتے اور اسی دوران اگر اٹھارہ ماہ کی مدت گزر جائے تو متعلقہ افراد قانونی طور پر جرمنی میں رہائش کے مستحق ہو جاتے ہیں اور ان کی ملکی بدری کے احکامات کارگر نہیں رہتے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ اس عمل میں اتنی تاخیر ہوتی ہے کہ مہاجرین دوسرے طریقوں سے جرمنی میں مستقل رہائش حاصل کر لیتے ہیں۔ کبھی بچے کی پیدائش کے ذریعے، تو کبھی کسی جرمن شہری سے شادی کر کے۔

پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کی پہلی سہ ماہی میں بیس ہزار افراد کو ملک بدر اس لیے نہ کیا جا سکا کہ جب پولیس اہلکار ملک بدری کے لیے ان کی رہائش گاہ پر پہنچے، تو وہ اپنے بتائے ہوئے پتے پر موجود ہی نہ تھے۔

اسی طرح تین ہزار کے قریب افراد کو اس لیے ان کے آبائی ممالک روانہ نہ کیا جا سکا کہ یا تو جہاز کے پائلٹ نے انہیں جہاز پر سوار کرنے سے انکاری کر دیا یا پھر پرواز سے قبل وہ لڑائی جھگڑے میں ملوث ہونے کی وجہ سے روانہ نہ کیے جا سکے۔

حالیہ برسوں میں جنگ اور غربت سے متاثرہ مسلم ممالک سے جرمنی آنے والے افراد کے تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد جرمنی میں پناہ کے متلاشی افراد کے لیے قوانین سخت کیے گئے اور ملک بدریاں بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں