The news is by your side.

Advertisement

چینی کمیشن رپورٹ شاہد خاقان کے کارناموں سے بھری ہے، شہزاد اکبر

اسلام آباد : معاون خصوصی شہزاد اکبر نے چینی کمیشن رپورٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کے دور حکومت میں ایک سال میں تین سو ارب روپے عوام کی جیب سے نکالنے گئے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے چینی اسکینڈل سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کے کارناموں کا پردہ فاش کردیا، شہزاد اکبر نے کہا کہ چینی کمشین رپورٹ شاہد خاقان کے کارناموں سے بھری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ نے تھرڈ پارٹی ویلی ڈیشن کے بغیر سبسڈی دی جو کرمنل ایکٹ ہے، 4.1 ارب سبسڈی سندھ حکومت نے اسٹیٹ بینک کے علم میں لائے بغیر دی۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ کمشین کہتا ہے کہ کاسٹ اور پروڈکشن صحیح کاؤنٹ کی ہوتی تو سبسڈی کی ضرورت نہیں تھی، عالمی منڈی میں ایکسپورٹ کی اجازت دیتے تو آپ کو سبسڈی کی ضرورت ہی نہیں پڑھتی۔

معاون خصوصی نے بتایا کہ یہ لوگ چینی کی فی کلو قیمت 14 روپے زیادہ بتاتے ہیں، اومنی گروپ کی سب سے بڑی ملز ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سبسڈی کے پیچھے سب سے بڑا سہولت کار سلمان شہباز تھا، 25 ارب روپے ریوڑیوں کی طرح بانٹے گئے، کوئی یقین کرے گا شاہد خاقان کہیں کہ سلمان شہباز سے زندگی میں دو تین بار ملا، چینی اسکینڈل، ایک سال میں 300 ارب روپے عوام کی جیب سے نکالے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگی ترجمانوں سے گزارش ہے کہ رپورٹ پڑھ لیں، رپورٹ میں العربیہ کا بھی ذکر ہے اور وہ بند نہیں ہے۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ باقی شوگر ملز کا بھی آڈٹ ہونا ضروری ہے، ان کی ایک ایک بھینس شاید ہزار لیٹر دودھ دیتی ہے،

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ رپورٹ کی روشنی میں نیب، ایف آئی اے و دیگر کا اشتراک شروع ہوگا، نیب، ایف آئی اے کو لگا کوئی بھاگ سکتا ہے تو وہ اقدام کریں گے، کمیشن نے وزیر اعلیٰ پنجاب، وزیر اعلیٰ سندھ کو بلایا تھا، وزیر اعلیٰ سندھ تو پیش ہی نہیں ہوئے، انھوں نے بڑے فون کروائے جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ انھوں نے کرشنگ روک دی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ کمیشن نے کہاکاسٹ اورپروڈکشن آپ نے پچھلے سال کی لگا دی۔

شہزاد اکبر نے شاہد خاقان عباسی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ شاہد خاقان عباسی خود کو لائق اعظم بناکر پیش کرتے ہیں، ان کی ایئر لائن بہت فائدے میں جارہی ہے جبکہ پی آئی اے کو انہوں نے ڈبو دیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں