The news is by your side.

Advertisement

مفتی تقی عثمانی پر مبینہ حملے کی اطلاع، پولیس کا اہم بیان جاری

کراچی: ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی پر حملے سے متعلق سوشل میڈیا زیر گردش خبروں پر پولیس نے اہم بیان جاری کردیا ہے۔

ایس ایس پی کورنگی شاہ جہاں خان نے میڈیا کو بتایا کہ مفتی تقی عثمانی پر حملہ نہیں ہوا، ملاقات کےلیےآئے ایک شخص سے چاقو برآمد ہوا ہے۔

ضلع کورنگی کے ایس ایس پی نے واقعے سے متعلق بتایا کہ مفتی تقی عثمانی سے فجر کی نماز میں ایک شخص ملنے آیا اور مفتی تقی عثمانی سےدعا کی درخواست کی اور اکیلے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔

شاہ جہاں خان نے بتایا کہ اس دوران مفتی تقی عثمانی کے گارڈ نے تلاشی لی تو مشتبہ شخص سے چاقو برآمد ہوا، مشتبہ شخص کو فوری طور پر تحویل میں لیکر پولیس کے حوالے کیا گیا۔ایس ایس پی کے مطابق مشتبہ شخص کی دو بیویاں تھیں جو گھر چھوڑ کر جاچکی ہیں، خاندانی معاملات کی درستگی کے لئے مشتبہ شخص مفتی تقی عثمانی سے خصوصی دعا کرانا چاہتا تھا۔

زیر حراست شخص کی شناخت عاصم لیئق کے نام سے ہوئی ہے، کورنگی پولیس نے ملزم کا ابتدائی بیان قلمبند کرلیا ہے، جس میں ملزم نے بتایا کہ گھریلو پریشانی کاشکار ہوں دعا کرانا چاہتا تھا،میں نے چاقو نہیں نکالا، دوران تلاشی گارڈ نےنکالا، چاقو روز مرہ کے استعمال کیلئےرکھا تھا۔قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار زیر حراست شخص سے مزید پوچھ گچھ میں مصروف ہیں۔

یاد رہے کہ دو سال قبل مارچ میں کراچی کی نیپا چورنگی پر دارالعلوم کراچی کی دو گاڑیوں پر موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے فائرنگ کی تھی، اس واقعے میں بھی مفتی تقی عثمانی بال بال بچے تھے، گاڑی میں ان کے ہمراہ اہلیہ اور دو پوتے بھی تھے۔

فائرنگ کے واقعے میں ان کےدو سیکیورٹی گارڈ شہید جبکہ بيت المکرم مسجد کے خطيب مولانا عامر شہاب اور مفتی تقی عثمانی کا ڈرائيور زخمی ہوا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں