The news is by your side.

Advertisement

کلائمٹ چینج کے باعث جنوبی ایشیائی ممالک میں تنازعوں کا خدشہ

برسلز: سابق فوجی افسران نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کلائمٹ چینج یا موسمیاتی تغیر جنوبی ایشیا میں مختلف تنازعوں کا سبب بن سکتا ہے۔

پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے 3 سابق فوجی افسران نے ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی ہے جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ تینوں ممالک مل بیٹھ کر کلائمٹ چینج سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے پائیدار منصوبوں پر کام کریں اور علاقائی تعاون میں اضافہ کریں، دوسری صورت میں یہ تینوں ممالک آپس میں مختلف تنازعوں کا شکار ہوجائیں گے جس سے ان 3 ممالک میں بسنے والے کروڑوں افراد کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔

report-3

یہ رپورٹ گلوبل ملٹری ایڈوائزری کونسل آن کلائمٹ چینج کی جانب سے شائع کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مصنفین پاکستان کے لیفٹننٹ جنرل (ر) طارق وسیم غازی، بنگلہ دیش کے میجر جنرل (ر) اے این ایم منیر الزماں اور بھارت کے ایئر مارشل (ر) اے کے سنگھ ہیں۔

report
رپورٹ کے مصنفین

رپورٹ کے مطابق مشترک آبی ذخائر کی تقسیم اور گلیشیئرز پر سے اپنی افواج ہٹانا پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان موجود کئی تنازعوں سے بچاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: کلائمٹ چینج کے باعث پہلا ممالیہ معدوم

واضح رہے کہ جنوبی افریقہ کا رقبہ دنیا کے کل رقبہ کا 4 فیصد ہے جبکہ اس کی 1.7 آبادی دنیا کی کل آبادی کا 20 فیصد حصہ ہے۔ یہ خطہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے دنیا کا کمزور ترین اور شدید خطرات میں گھرا ہوا خطہ ہے۔

یہ خطہ سیاسی طور پر عدم استحکام کا شکار ہے۔ یہی نہیں اس خطہ میں علاقائی تناؤ بھی پائے جاتے ہیں جن میں پاکستان اور بھارت سرفہرست ہیں۔

report-4

رپورٹ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ایئر مارشل (ر) اے کے سنگھ نے بتایا، ’جنوبی ایشیا میں آنے والے حالیہ سیلاب صرف ایک مثال ہیں کہ کلائمٹ چینج کس طرح جنوبی ایشیائی ممالک کی معیشتوں کو درہم برہم کرسکتا ہے۔ اس کا سب سے واضح اثر تو بے روزگاری کی صورت میں سامنے آیا ہے‘۔

ان کے مطابق یہ اثرات آگے چل کر شدت پسندی اور منظم جرائم کا سبب بنیں گے جس سے موجودہ تنازعوں میں اضافہ ہوگا، جبکہ دیگر کئی نئے تنازعہ پیدا ہوجائیں گے۔

مزید پڑھیں: کلائمٹ چینج سے خواتین سب سے زیادہ متاثر

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آبی ذخائر کو مناسب طریقے سے تقسیم کرنا جنوبی ایشیا میں امن و استحکام قائم رکھنے کا واحد حل ہے۔ پاکستان چند ہی عشروں میں پانی کی کمی کا شکار ممالک میں شامل ہوچکا ہے، جبکہ بھارت کی کئی ریاستوں میں اچانک پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

flood-2

پاکستان کے لیفٹننٹ جنرل (ر) طارق وسیم غازی نے اس رپورٹ کو ’افواج کی جانب سے امن کے لیے ایک کوشش‘ کا نام دیا ہے۔

اس سے قبل ورلڈ بینک بھی اپنی ایک رپورٹ میں متنبہ کرچکا ہے کہ کلائمٹ چینج اور پانی کی کمی کچھ ممالک کی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی میں 2050 تک 6 فیصد کمی کردے گی۔ پانی کی قلت کے باعث مشرق وسطیٰ کو اپنی جی ڈی پی میں 14 فیصد سے بھی زائد کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں