The news is by your side.

امداد کی بروقت فراہمی سمیت سیلاب متاثرین کے ریسکیو، ریلیف آپریشن کے لیے اہم فیصلے

اسلام آباد: وزیرِ اعظم کی زیر صدارت حالیہ بارشوں اور سیلابی صورت حال پر گزشتہ رات 3 گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں سیلاب متاثرین کے ریسکیو اور ریلیف آپریشن کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق اجلاس میں ملک میں سیلابی صورت حال سے متعلق ہنگامی بنیادوں پر صوبائی حکومتوں کا اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے، جس میں وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ شریک ہوں گے۔

وزیر اعظم نے سیلاب متاثرین کی امداد کو مزید تیز اور منظم کرنے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دے دیں، جو تمام صوبوں میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی اشیا کی فوری فراہمی یقینی بنائیں گی۔ وفاقی وزرا اور اتحادی رہنماؤں کی سربراہی میں صاف پانی، خیموں، ادویات، اور راشن پر علیحدہ علیحدہ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔

وزیر اعظم نے فوری طور پر اسلام آباد میں سفرا کی کانفرنس بلانے کا بھی فیصلہ کیا، جس میں سفیروں کو حالیہ بارشوں اور سیلاب سے جانی و مالی نقصان پر اعتماد میں لیا جائے گا، اور انھیں ریسکیو اور امدادی آپریشن سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا جائے گا۔

وزیر اعظم نے بی آئی ایس پی کے تحت جاری فلڈ ریلیف کیش پروگرام میں تقسیم میں تعطل کا سخت نوٹس لیا، اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ 3 دن کے اندر فلڈ ریلیف کیش کی رقم تقسیم کرنے کی ہدایات پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا۔

اجلاس میں وزیر اعظم نے بی آئی ایس پی کو 2 ستمبر تک فلڈ ریلیف کیش پروگرام کے تحت 25 ہزار فی متاثرہ خاندان پہنچانے کی دو ٹوک ہدایات جاری کر دیں، اور کہا کہ جو بینک اس ٹارگٹ کو پورا نہ کر سکے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

وزیر اعظم نے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو کے لیے کشتیوں کی یقینی فراہمی کے لیے ڈی جی ایم او اور نیول چیف سے رابطے کی بھی فوری ہدایت کی۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے وزارت اقتصادی امور اور خزانہ کو ہدایت کی کہ ڈونرز کانفرنس میں بین الاقوامی اداروں، تنظیموں کی طرف سے امداد متاثرین تک پہنچانے کی جامع حکمت عملی بنائی جائے۔

انھوں نے فلڈ ریلیف کمیٹی کو پاک فوج کو سیلاب متاثرین کے ریسکیو آپریشن کے لیے مدعو کرنے اور کارروائیوں کو منظم کرنے کی بھی ہدایت کی، اور کہا ڈی جی ایم او کو فوری طور پر اعتماد میں لے کر حکومتی ریسکیو و ریلیف آپریشن اور پاک فوج کے آپریشنز کو یکجا کر کے منظم کیا جائے۔

اجلاس میں وزیر اعظم نے متاثرہ علاقوں میں گھروں کے نقصانات کے پیش نظر متاثرین کے لیے خیموں کی تعداد 50 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیر اعظم کی زیر صدارت ملک میں سیلابی صورت حال کے پیش نظر ریسکیو اور ریلیف آپریشن پر ہنگامی اجلاس میں وفاقی وزرا، چیئرمین این ڈی ایم اے، وزیر اعلیٰ سندھ، چیف سیکریٹریز اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں