The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس سے صحتیاب افراد کے حوالے سے پریشان کن انکشاف

کرونا وائرس کے حوالے سے نئی نئی تحقیقات اور تجربات سامنے آرہے ہیں، حال ہی میں ماہرین نے انتباہ کیا ہے کہ کرونا وائرس کا شکار افراد کو صحتیاب ہونے کے بعد بھی مختلف مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد مریضوں میں کوویڈ 19 بیماری کے طویل المعیاد اثرات کا مشاہدہ کیا ہے، ایسے مریضوں میں بنیادی علامت سانس لینے میں مشکل ہونا ہے جبکہ انہوں نے ذہن میں دھند چھائے ہونے کی شکایت بھی کی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ متعدد ایسے مریض جن میں پہلے کوویڈ 19 کی تصدیق ہوئی تھی اور بعد میں لیبارٹری ٹیسٹوں میں انہیں بیماری سے کلیئر قرار دیا گیا تھا، مگر وہ تاحال علامات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق کچھ مریضوں کی علامات نظام تنفس سے منتعلق تھیں یعنی سانس لینے میں مشکلات، مسلسل کھانسی، جبکہ دیگر کی علامات الگ تھیں جیسے دماغی دھند اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکل، جبکہ کچھ مریضوں کی سونگھنے یا چکھنے کی حس تاحال کام نہیں کر رہی۔

ماہرین میں شامل ڈاکٹر مائیکل بیکلس کا کہنا ہے کہ مریضوں کو ذہنی الجھنوں کا بھی سامنا ہے کیونکہ بیماری کے بعد خیال کیا جارہا تھا کہ سب کچھ معمول پر آجائے گا مگر علامات اب بھی برقرار ہیں۔

ڈاکٹر مائیکل کے مطابق کچھ ایسے مریض بھی ہیں جو کوویڈ 19 سے متاثر ہونے سے پہلے ہر ہفتے 3 سے 4 گھنٹے جم میں گزارتے تھے، مگر اب ان کے لیے ورزش کرنا بہت مشکل ہوچکا ہے۔

علاوہ ازیں ایسے مریض بھی ہیں جن کے لیے گھر میں سیڑھیاں چڑھنا اترنا بھی بہت مشکل ہوگیا ہے حالانکہ پہلے انہیں کبھی ایسا مسئلہ نہیں ہوا تھا۔

چند دن قبل آئر لینڈ میں ہونے والی ایک تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ کوویڈ 19 سے صحتیاب ہونے والے لاتعداد افراد کو تاحال شدید تھکاوٹ کا سامنا ہے۔

تحقیق میں زور دیا گیا کہ صحتیاب مریضوں کی مناسب نگہداشت کی جانی چاہیئے اور سنگین حد تک بیمار افراد پر مزید تحقیق کرکے دیکھنا چاہیئے کہ انہیں کس طرح کے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں