The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس کی نئی اقسام زیادہ متعدی کیوں ہیں؟

کرونا وائرس کی نئی اقسام ڈیلٹا اور ایلفا اصل قسم سے زیادہ متعدی تصور کی جاتی ہیں، اور اب ماہرین نے اس کی وجہ دریافت کرلی ہے۔

بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق ایک تحقیق میں ایسی میوٹیشن کی نشاندہی کی گئی ہے جس سے وضاحت ہوتی ہے کہ کرونا وائرس کی ایلفا قسم دیگر اقسام سے بہت زیادہ متعدی کیوں ہے۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کے ماہرین نے تحقیق میں دریافت کیا کہ ایک غیر واضح میوٹیشن نے وائرس کے ساختی جسم کو اس طرح تبدیل کیا جس کے نتیجے میں وہ زیادہ متعدی ہوگئی۔

آر 20 ایم نامی میوٹیشن ڈیلٹا کو منفرد بناتی ہے جس کے نتیجے میں وائرس اپنے میزبان خلیات میں اپنے جینیاتی کوڈ کو وائرس کی پرانی اقسام کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ انجیکٹ کرتا ہے۔

اس تحقیق کے لیے ماہرین نے اوریجنل وائرس کا ایک فرضی ورژن تیار کیا جس میں آر 203 ایم میوٹیشن کا اضافہ کیا گیا، اس کے بعد مشاہدہ کیا گیا کہ کس طرح تدوین شدہ قسم لیبارٹری میں پھیپھڑوں کے خلیات پر اثرات مرتب کرتا ہے اور اس کا موازنہ اوریجنل وائرس سے کیا گیا۔

تحقیقی ٹیم یہ دریافت کرکے حیران رہ گئی کہ آر 203 ایم پرانی اقسام کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ ایم آر این اے خلیات میں پھیلا دیتی ہے۔

اس دریافت کی تصدیق کے لیے انہوں نے حقیقی کرونا وائرس میں آر 203 ایم کا اضافہ کیا جس کے نتیجے میں وہ اوریجنل وائرس سے 51 گنا زیادہ متعدی ہوگیا۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ نتائج سے ان شبہات کی تصدیق ہوتی ہے کہ کرونا کی قسم ڈیلٹا میں اسپائیک پروٹینز سے ہٹ کر بھی بہت کچھ ہے۔ آر 203 ایم سے کووڈ کی وہ پروٹین کوٹنگ بدل گئی جو اس کے جینوم کے ارگرد ہوتی ہے، اس کو این پروٹین بھی کہا جاتا ہے۔

یہ پروٹین جسم میں داخل ہونے کے بعد وائرس کے استحکام اور اخراج میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اس تحقیق میں کرونا کی دیگر اقسام میں بھی این پروٹینز کی تبدیلیوں کو دیکھا گیا اور دریافت ہوا کہ وہ بھی خلیات کو متاثر کرنے میں اوریجنل وائرس سے زیادہ بہتر کام کرتی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں