The news is by your side.

Advertisement

ہزاروں گھر بجلی سے محروم کیوں ہیں؟

چترال: ریشُن کو بجلی فراہم کرنے پن بجلی سیلاب میں تباہی کے دو سال گزرنے کے بعد بھی تعمیر نہ ہوسکا‘ مقامی آبادی نے پرتشدد احتجاج کی دھمکی دے دی۔

تفصیلات کے مطابق چترال کے بالائی علاقے ریشُن میں بیس ہزار گھروں کو بجلی فراہم کرنے والا پن بجلی گھر سیلاب میں تباہی کے بعد سے اب تک ناکارہ ہے‘ 4.2 میگا واٹ کا یہ بجلی گھر جولائی 2015 کے سیلا ب میں تباہ ہوا تھا۔

علاقے کے عوام نے بجلی گھر کی بحالی کے لیے مسلسل دھرنا بھی دیا تھا‘ جس پر صوبائی حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ بجلی گھر کی تعمیر ِ نو کے لیے ٹینڈر کر رہے ہیں تاہم اس کی جگہ کرائے پر ڈیزل جنریٹر لایا گیا جو تا اطلا ع ثانی فعال نہیں ہوسکا۔

Reshun Hydro power

متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبائی حکومت محکمہ برقیات فوری طور پر ریشن پن بجلی گھر دوبارہ تعمیر کرے کیونکہ اس بجلی گھر کی تباہ ہونے کے بعد دو لاکھ عوام بجلی سے محروم ہیں ‘ انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ ہم نے پہلے بھی دھرنا دیا تھا مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ۔ اب کی بار ہم پر تشدد احتجاج کریں گے اور اس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ اور حکومت پر ہوگی۔

چترال میں طویل لوڈ شیڈنگ کے خلاف دھرنا*

منتحب نمائندوں، کونسلروں، ناظمین اور صارفین نے الزام عائد کیا ہے کہ ’’سنہ 2015 میں ریشن کے مقام پر 4.2 میگا واٹ کا پن بجلی گھر محکمے کی غفلت کی وجہ سے سیلاب برد ہوا ، کیونکہ ہم نے بارہا درخواست کی کہ بجلی گھر کے قریب سال 2010 کے سیلاب میں بہہ کر آنے والے پتھر سے پانی کا راستہ رک رہاہےاور دوبارہ سیلاب کی صورت میں سیلاب کا پانی بجلی گھر کو بہا کر لے جائے گا مگر انہوں نے ایک بھی نہیں سنی‘‘۔

انہوں نے کہا کہ چھ ماہ قبل ڈیزل جنریٹر کرائے پر لائے گئے ہیں مگر ابھی تک اس کی بجلی بھی فراہم نہیں کی گئی۔ اس سلسلے میں جب محکمہ پختون خواہ انرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن (صوبائی محکمہ برقیات) کے اسسٹنٹ ریذیڈنٹ انجنئیر محمد وکیل سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ کہ اس بجلی گھر کے لئے پہلے کنسلٹنٹ کا انتحاب ہوگا اس کے بعد ٹینڈر ہوکر اس پر کام شروع ہوگا مگر ابھی تک کنسلٹنٹ کا انتحاب نہیں ہوا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ اس بجلی گھر کے لیے اسی کروڑ روپے کا فنڈ طے کیا گیا ہے مگر یہ فنڈ کب فراہم ہوگا ‘ اس کے بارے میں فی الحال کوئی خبر نہیں ہے۔

یاد رہے کہ بجلی گھر کی خرابی کے سبب محکمے کو محکمے کو بھی پندرہ کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے‘ اگر بجلی گھر بروقت بنایا جاتا تو لوگوں کو بجلی فراہم ہوتی اور محکمے کو ماہوار پچاس لاکھ روپے کی آمدنی ہوتی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں