The news is by your side.

Advertisement

دبئی : غیر ملکی ملازمین کے لیے والدین کو بلانا ممکن

متحدہ عرب امارات وہ ملک ہے جہاں دنیا بھر سے لوگ حصول روزگار کے لیے مقیم ہیں جن میں اکثر اپنے والدین اور بیوی بچوں کو آبائی ملک چھوڑ کر یہاں مقیم ہوتے ہیں اور اہل خانہ کو بلوانے کے خواہش مند ہوتے ہیں تو لیکن ایسا کرنے سے پہلے کئی بار سوچناپڑتا ہے۔

جس کی بنیادی وجہ بے لگام اخراجات اور کم وسائل ہیں کیوں کہ یو اے ای میں مقیم افراد زیادہ تر نوجوانوں پر مشتمل ہوتی ہے جو ایک ہی کمرے میں گروپ کی صورت میں گذارا کر لیتے ہیں جس سے کرایہ اور کھانے پینے کے اخراجات کم ہوجاتے ہیں ایسے میں والدین کو بلوانا جیپ پر بھاری پڑ سکتا ہے۔

تنخواہ 19 ہزا درہم ہونا ضروری ہے

اس حوالے سے متحدہ عرب امارات میں باقاعدہ قوانین مرتب کیے گئے ہیں جن کی رو سے 19 ہزار درہم تنخواہ مع رہائش رکھنے والے ملازمین اپنے والدین کومستقل بنیادوں پر اپنے پاس بلواسکتے ہیں۔

رہائش اپنی نہ ہو تب بھی والدین بلانا ممکن

اگر کسی ملازم کو رہائش گاہ کی سہولت میئسر نہیں لیکن اس کی تنخواہ 20 ہزار درہم ہے تو وہ بھی اپنے والدین کو مستقل بنیادوں پر بلوا سکتے ہیں۔

تنخواہ 19 ہزار درہم سے کم ہو تب بھی ممکن

دوسری صورت میں اگر کسی شخص کی تنخواہ 19 ہزار درہم سے کم ہو لیکن وہ اپنے اہل خانہ کو بلوانا چاہتا ہوتو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر درخواست دائر کرسکتا ہے جس کے لیے اسے ایک مخصوص ادارے ڈی این آر ڈی (Department of Naturalisation and Residency Dubai) سے رجوع کرنا ہوگا جو اس معاملے کو انفرادی بنیادوں پر پرکھے گا اور اجازت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرے گا۔

والدین کے ساتھ ساس اور سسر کو بھی بلانا ممکن

متحدہ عرب امارات کے قوانین کے تحت کوئی بھی شخص اپنے والدین کے ساتھ ساتھ اپنے سسر اور ساس کو بلوا سکتا ہے تاہم اس کے لیے والدین اور دیگر اہل خانہ کے ہر ایک رکن کے لیے کم از کم 600 درہم کی میڈیکل انشورنس کرانا لازمی ہوگا۔

رہائش گاہ کا نقشہ اور یوٹیلیٹی بلز دکھانا ہوں گے

علاوہ ازیں ملازم کو دبئی الیکٹرک سٹی اور واٹر اتھارٹی (DEWA) کے بل بھی پیش کرنا ہوں گے اور ساتھ رہائش گاہ کا نقشہ بھی دکھانا ہوگا جس سے پتہ چلے کہ گھر میں اتنی جگہ میئسر ہے کہ نئے افراد بآسانی رہ سکیں گے یا نہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں