اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر پابندیاں ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی۔
خبر ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر اقتصادی پابندیاں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 4 ممالک نے ایران پر نئی پابندیاں روکنے کے حق میں ووٹ دیا جب کہ 9 ممالک نے پابندیوں میں نرمی کی مخالفت اور 2 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
ایران نے سلامتی کونسل کے فیصلے کو سیاسی جانبداری قرار دیا ہے۔
خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران پر یورپی پابندیاں 28 ستمبر کو دوبارہ نافذ ہونے کا امکان ہے۔
امریکا نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کئی ایرانی شخصیات اور کمپنیوں پر پابندی لگادی، ان اداروں اور شخصیات پر غیرقانونی مالیاتی لین دین کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے ایران کی فوجی فنڈنگ کیخلاف نئی پابندیاں عائد کردیں۔
پابندیاں ایران کی کئی اہم شخصیات اور کمپنیوں پر عائد کی گئی ہے، ایران کی مدد کرنے والی 12 سے زائد ہانگ کانگ اور یو اے ای کی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پابندیوں کا ہدف ایران کی فوجی قوت اور وزارت دفاع کیلئے مالی مدد کرنے والے ادارے اور شخصیات ہیں۔
کچھ گروہ ایرانی شیڈو بینکنگ کے ذریعے عالمی مالی نظام کا غلط استعمال کرتے ہیں، پابندیوں میں نشانہ بنائے گئے افراد اور ادارے غیرقانونی مالیاتی لین دین کرتے ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ایرانی آئل کی فروخت سے حاصل رقم دہشت گرد تنظیموں کو جاتی ہے۔ ایران کی سرگرمیوں کے خلاف سخت مالی اقدامات جاری رہیں گے۔ پابندیوں کا مقصد ایران کی مشرق وسطیٰ میں منفی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


