site
stats
بزنس

پاکستان اور ایران کے درمیان بینکاری روابط کی بحالی پر اجلاس

کراچی: ایران پر پابندیوں کے خاتمے کے پس منظر میں اسٹیٹ بینک نے آج 14 مارچ 2016ء بروز پیر تمام بینکوں/مالی اداروں کا ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا تا کہ ایران کے ساتھ تجارتی لین دین میں سہولت دینے کے لیے بینکاری صنعت کی طرف سے ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

اس اجلاس کی صدارت ایگزیکٹو ڈائریکٹر بی پی آر جی نے کی اور اس میں بینکاری صنعت سے تعلق رکھنےو الے سینئر بینکاروں نے شرکت کی۔

واضح رہے کہ ایران پر پابندیوں کے خاتمے کے متعلق وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق اسٹیٹ بینک نے 25 فروری 2016ء کو تمام بینکوں کو ہدایت کی تھی کہ ایران پر پابندیوں کے خاتمے سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد اور وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کی روشنی میں وہ ایران کے ساتھ معمول کی بینکاری سرگرمیاں شروع کر سکتے ہیں۔

اجلاس کے شرکا نے بین الاقوامی پابندیوں سے متعلق امور پر بحث کی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کیا۔ اسٹیٹ بینک نے پابندیوں کے بعد کے ماحول میں ایران کے ساتھ تجارت پر شرکا کو عمومی رہنمائی فراہم کی جبکہ باقی پابندیوں کو بھی پیشِ نظر رکھا اور بینکوں کی طرف سے اٹھائے جانے والے نکات کی وضاحت کی۔ بینکوں پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی پالیسیوں، طریقہ کار، سسٹمز اینڈ کنٹرولز، روابط کی بحالی اور ایران میں اپنے ہمسر اداروں کے ساتھ معاہدوں کی تازہ کاری کے لیے فوری اقدامات کریں تاکہ معمول کی تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں جلد بحال کی جائیں۔

پاکستان اور ایران کے مابین جغرافیائی قربت اور اقتصادی تعلق کے پیشِ نظر توقع ہے کہ بینکاری روابط کی بحالی سے دونوں ہمسایہ ملکوں کے مابین معمول کی تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں بھی پھر سے شروع ہو جائیں گی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top