واشنگٹن : ایران سے مذاکرات میں امریکا اور پاکستان کےاعلیٰ ترین عہدیدار امن معاہدے کیلئے کوشاں ہیں، آئندہ چوبیس گھنٹے میں امریکا ایران مذاکرات کے نتائج متوقع ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کے قیام کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مثبت بات چیت جاری ہے، جس کے نتائج آئندہ 24 گھنٹوں میں متوقع ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کے قریبی حلقوں اور دوستوں کے تعاون سے یہ مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں ، امید ہے جاری بات چیت سے خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
ذرائع کے مطابق ایران کے ساتھ ان حساس مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پاکستان اور امریکہ کے اعلیٰ ترین عہدیدارسرگرم عمل ہیں. یہ مشترکہ سفارت کاری "معاہدہ اسلام آباد” کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے کی جا رہی ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے 24 گھنٹے عالمی سیاست کے لیے انتہائی اہم ہیں، جن میں کسی بڑے بریک تھرو یا باقاعدہ جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔
اس ممکنہ معاہدے میں جہاں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز ہے، وہیں امریکہ کی جانب سے سیکورٹی ضمانتیں بھی زیرِ بحث ہیں۔
عالمی مبصرین اس پیش رفت کو موجودہ صدی کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں، جس کا مرکز اسلام آباد بنا ہوا ہے۔
جہانزیب علی اے آر وائی نیوز امریکا میں بطور بیورو چیف فرائض انجام دے رہے ہیں


