The news is by your side.

دودھ کی سرکاری قیمت کے خلاف ریٹیلرز کا احتجاج کا فیصلہ

کراچی: صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ریٹیلرز نے دودھ کی سرکاری قیمت کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے ملک ریٹیلرز نے دودھ کی سرکاری قیمت کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

ریٹیلرز کا کہنا ہے کہ دودھ کی سرکاری قیمت بہتر نہ کی گئی تو خود فیصلہ کریں گے۔ حکومت نے مطالبات پورے نہ کیے تو دکانیں بند کریں گے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل سپریم کورٹ نے بھینسوں کو زائد دودھ کے حصول کے لیے لگائے جانے والے آر وی ایس ٹی نامی ٹیکوں کی فروخت پر پابندی عائد کرتے ہوئے کمپنیوں کا تمام اسٹاک فوری قبضے میں لینے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے قرار دیا تھا کہ بھینسوں کو لگنے والے ٹیکوں سے ملنے والا دودھ کینسر کا باعث ہے۔ یہ ہمارے بچوں کی زندگیوں کا معاملہ ہے۔ عدالت کوئی رعایت نہیں دے گی۔

عدالت کے فیصلے کے بعد دودھ کی قیمتیں بڑھانے کے لیے ڈیری فارمرز نے عدالت سے رجوع کرلیا تھا۔

ڈیری فارمرز کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ کراچی میں یومیہ دودھ کی مقداراور کھپت 45 لاکھ لیٹر ہے۔ دودھ کی مقدار بڑھانے سے متعلق انجکشن پر پابندی عائد ہونے کے بعد کراچی میں دودھ کی مقدار کم ہو کر 25 لاکھ لیٹر رہ گئی ہے۔

درخواست پر سندھ ہائیکورٹ نے سندھ حکومت، کمشنر کراچی اور دیگر فریقین سے 6 فروری کو جواب طلب کرلیا تھا۔

بعد ازاں ڈیری فارمرز نے دودھ کی قیمت میں 15 سے 20 روپے فی لیٹر کا اضافہ کردیا جس کے بعد ریٹیلرز نے پرانی قیمت پر دودھ کی فروخت کو ناممکن قرار دے دیا۔

صدر ملک ریٹیلرز کے مطابق معاملے کے فوری نوٹس کے لیے کمشنر کراچی کو خط لکھا گیا ہے۔ نوٹس نہ لیا تو شہر میں دودھ کی فروخت بند ہوجائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پابندی کے بعد دودھ کی لاگت میں 30 سے 40 فیصد کمی ہوگئی۔ ڈیری فارمرز نے پیداواری لاگت کو جواز بنا کر نرخ بڑھا دیے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں