site
stats
انٹرٹینمںٹ

گلوکو الہ یاراینڈ دی لیجنڈ آف مارخور: بچے تو بچے‘ بڑے بھی بارباردیکھنا چاہیں گے

allahyar

حسین فطری مناظر، جیسے بلند و بالا پہاڑوں، سمندروں اور طوفانوں کو بڑے پردے پر پیش کرنے میں ٹیکنالوجی کلیدی کردارادا کرتی ہے، جس کا خوب صورت اور عملی مظاہرہ ہمیں گلوکو الہ یاراینڈ دی لیجنڈ آف مارخورمیں نظر آتا ہے۔

بات اگر اینیمیٹڈ فلم کی ہو، تو پیش کش کا پورا انحصار ہی جدید ٹیکنالوجی پر ہوتا ہے۔ یعنی معاملہ مزید نازک ہوجاتا ہے، کسی غلطی کا امکان نہیں رہتا، تقاضے مزید بڑھ جاتے ہیں۔

تھرڈ ورلڈ اسٹوڈیوز اور اے آر وائی فلمز کے اشتراک سے بننے والی اینیمینٹڈ فلم گلوکو” الہ یار اینڈ دی لیجنڈ آف مارخور“ اس کٹھن تقاضے کو نبھانے میں کامیاب نظر آتی ہے، جو شمالی علاقہ جات، وہاں کے موسموں ، پہاڑوں، برف سے ڈھکے ٹیلوں، برستے بادلوں اور سبزے کو اتنی مہارت سے پیش کرتی ہے کہ پاکستانی فلم بین کو حقیقت کا گمان ہونے لگتا ہے۔

٭رنگ رنگا پریمیئر

یہ فلم کاوش ہے مصنف اور ہدایت کار،عذیر ظہیر خان کی۔ اسے پرڈویوس کیا ہےعثمان اقبال نے۔ اس فلم کا رنگا رنگ پریمیئر31 جنوری کو کراچی کے نیوپلیکس سنیما میں ہوا، جہاں فلم کی کاسٹ کے ساتھ ساتھ شوبز کی معروف ہستیاں بھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ موجود تھیں۔ فلم بینوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ یہ فلم اے آروائی کے بینرتلے 2 فروری 2018 کو پاکستان بھر کے سنیما گھروں کی زینت بنے گی ۔

آئیں، اب اس فلم پر نظر ڈالتے ہیں۔

٭ کہانی کیا ہے، صداکارکون ہیں؟

فلم ننھے ہیرو الہ یار (آواز:انعم زیدی)، اس کی مارخور دوست مہرو (آواز:نتاشہ حمیرا اعجاز) پرندے ہیرو (آواز:اظفر جعفری) اورننھے برفانی چیتے چکو (آواز:عبدالنبی جمالی) کے گرد گھومتی ہے، جو ایک شاطر شکاری مانی (آواز:علی نور) کے مذموم مقاصد کو ناکام بنانے کے لیے ایک دشوار سفر پر نکلتے ہیں۔ اس دوران ناظرین کو قربانی، دوستی اور عزم و ہمت جیسے جذبات کے مختلف رنگ دکھائی دیتے ہیں۔

جن دیگرفنکاروں کی آواز فلم میں شامل ہے، ان میں علی رحمان خان، حریم فاروق، ارشد محمود، نادیہ جمیل، امجد چوہدری، اریب اظہر اور احمد علی نمایاں ہیں۔

تمام صداکاروں نے اپنے کرداروں کو احسن طور پر نبھایا ہے اور کہانی کے تقاضوں سے انصاف کیا ہے۔ فلم کی موسیقی سماعتوں کو بھلی معلوم ہوتی ہے۔ علی نور کی آواز میں ریکارڈ کردہ ٹائٹل ٹریک پہلے ہی مقبول ہوچکا ہے۔

٭فلم کیا پیغام دیتی ہے؟

بچوں کے لیے بنائی جانے والی یہ خوبصورت فلم دوستی کے اٹوٹ رشتے کے گرد گھومتی ہے۔ دوستی کا رشتہ، جو انسان کو قربانی کا حوصلہ دیتا ہے، اور مشکل حالات میں اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑے ہونے اور حالات کا مقابلہ کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ ساتھ ہی یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں رنگ، نسل، قومیت کی بنیاد پر لوگوں میں فرق نہیں کرنا چاہیے اور سب سے یکساں برتاﺅ کرنا چاہیے۔ فلم جنگلی حیات کی حفاظت اور جانوروں سے محبت کرنے کے احساس کو بھی کامیابی سے اجاگر کرتی ہے۔

٭فلم والدین کو بھی متوجہ کرتی ہے

بظاہرگلوکو”الہ یار اینڈ دی لیجنڈ آف مارخور“ بچوں کی فلم ہے، مگر یہ ایک ایسا مکمل پیکیج ہے، جو ہرفلم بین کو متوجہ کرتا ہے۔ جہاں یہ بچوں کی تربیت کا اہتمام کرتی ہے، وہیں اس میں تفریح کے تمام تر عناصر موجود ہیں۔ یہ والدین کومتوجہ کرتی ہے کہ نہ صرف اپنے بچوں، بلکہ پوری فیملی کے ساتھ سنیما گھروں کا رخ کریں، اور اس خوب صورت فلم سے محظوظ ہوں۔

٭حرف آخر

گلوکو”الہ یار اینڈ دی لیجنڈ آف مارخور“ ایک ایسی فلم ہے، جوزندگی کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے، ہر عمر کے فلم بین کو متوجہ کرتی ہے، اور اسے بہترین تفریح فراہم کرنے کے ساتھ یہ احساس دلاتی ہے کہ پاکستانی سنیما اب بین الاقوامی سنیما سے خود کو آہم آہنگ کرنے کا سفر شروع کرچکا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top