The news is by your side.

Advertisement

منٹو، جو ہمارے ساتھ ساتھ چلتا ہے

ہم نے بہت سوں کو پڑھا، اور بھول گئے، آگے بڑھ گئے، مگر منٹو کا معاملہ ایسا نہیں۔

ہم نے اُسے پڑھا، آگے بڑھے،اور تب ہم نے جانا کہ وہ بھی ہمارے ساتھ ساتھ چلتا ہے اور جب تک ہمارے پیروں میں دم ہے، جب تک ہم چلتے جائیں گے، منٹو ہمارے ساتھ ساتھ چلے گا۔

اسی قوت کے سہارے منٹو آج 2019 میں ہمارے ساتھ ہے، گو وہ بہت سے، جو اس کے ساتھ چلے تھے، جو بڑے پرقوت تھے، جن کے ہاں بڑا تنوع تھا، پیچھے رہ گئے، مگرمنٹو ہمارے ساتھ ساتھ آگے بڑھا، اور وہ ہماری نئی نسل کے ساتھ بھی آگے بڑھے گا، مجھے یقین ہے۔

سید فرید حسین

اب وہ ٹرینڈ بن گیا ہے صاحب، پاکستانی اور بھارتی سنیما اس کی زیست کو زینت بنا چکے ہیں، اس کے کام کا انگریزی میں ترجمہ ہورہا ہے، یعنی وہ نسل، جو اردو سے نابلد ہے، وہ بھی کسی نہ کسی طرح منٹو سے جڑی ہوئی ہے۔

یہ کتاب منٹو خزانہ، جس کا نام سینئر صحافی غلام محی الدین نے تجویز کیا، اور جس کے افسانوں کا انتخاب معروف ناشر اور سماجی کارکن، سید فرید حسین کے پرخلوص مطالعے اورلگن کی دین ہے، منٹو کے عشق کو مہمیز کرے گی۔ الاﺅ کچھ اور روشن ہوگا، کچھ اور روشنی بڑھے گا منٹوکو مزید پڑھا جائے گا۔ مزید چاہا جائے گا۔ یہ بیت چکا شخص مزید زیر بحث آئے گا۔

یہ کیسا کمال ہے کہ جو کچھ وہ سات عشرے پہلے لکھ گیا، وہ آج بھی متعلقہ ہے، آج بھی قابل مطالعہ ہے، آج بھی سانس لیتا ہے۔

چلیں، منٹو سے ایک بار پھر ملتے ہیں ، ایک خزانہ آپ کے ہاتھ میں ہے، آئیں، اس کی خیرہ کن روشنی میں کھو جائیں۔

رمضان اور محرم میں، پورے ماہ تک جاری رہنے والے انوکھے کتب میلوں کے روح رواں سید فرید حسین کے ادارہ فرید پبلشرز کی شایع کردہ یہ کتاب 398 صفحات پر مشتمل ہے۔ قیمت 600 روپے ہے، یہ ڈسٹ کور کے ساتھ، اچھے ڈھب پر شایع کی گئی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں