site
stats
امریکا

امریکا پاکستان میں استحکام کا خواہش مند ہے‘ ٹیلرسن

Rex Tillerson

نئی دہلی: امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن کا کہنا ہے کہ پاکستانی قیادت سے دوستانہ ماحول میں بات ہوئی‘ پاکستان کے ساتھ مل کرمثبت طریقے سے کام کرنا چاہتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق آج بروز منگل نئی دہلی میں بھارتی ہم منصب سمشاسوراج کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن نے بھارتی امیدوں پر پانی پھیرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ مل کرکام کرنے کا عندیہ دے دیا۔

امریکی وزیرخارجہ نے بھارتی صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں پاکستانی قیادت سے دہشت گردی ‘ خطے میں استحکام سمیت دیگر علاقائی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی‘ امریکا ‘ پاکستان کے ساتھ مل کر مثبت طریقے سے کام کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ خطے میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کے سبب پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں‘ امریکا کسی بھی صورت پاکستان میں عدم استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

امریکی وزیرخارجہ کا مزید کہنا تھا افغان پالیسی میں بھارت اہم ہے‘ بھارت کے کندھے سے کندھا ملا کرکھڑے ہیں‘ اور امریکا خطے میں بھارت کو ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر دیکھنے کا خواہاں ہے۔

پاکستان سے تعلقات کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں‘ امریکی وزیرخارجہ*

انہوں نے اس پریس کانفرنس میں بھارت کے ساتھ جاری دفاعی ‘ تجارتی اور سیاسی نوعیت کے معاملات کے مزید فروغ کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

اسی پریس کانفرنس میں شمالی کوریا کے ساتھ تھارت اوربھارتی سفارت خانے کی موجودگی کے سوال پر سشما سوراج نے گول مول جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کا شمالی کوریا کے ساتھ تجارتی حجم انتہائی کم ہے اور امریکا کے مفادات کے لیے اس کے دوست ملک کا سفارت خانہ وہاں ہونا ضروری ہے۔

اس موقع پر بھارتی وزیرِخارجہ نے روایتی پاکستان دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک پھرپاکستان پردہشت گردوں کی مدد کا الزام عائد کیا اوربھارتی صحافی نے سوال کے ذریعے پریس کانفرنس کو پاکستان مخالف اعلامیے میں تبدیل کرنے کی بے سرو پا کوشش بھی کی۔ بھارتی میڈیا مشترکہ پریس کانفرنس کوامریکا اور بھارت کا مشترکا بیان کہتا رہا۔

پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے  گزشتہ روزاپنے دورہ پاکستان کے موقع پر وزیراعظم ہاؤس میں شاھد خاقان عباسی سے ملاقات کی تھی ‘ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ  پاکستان سے تعلقات کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں قابل قدر ہیں۔

اس موقع پر وزیرخارجہ خواجہ آصف، وزیرداخلہ احسن اقبال، وزیردفاع خرم دستگیر، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل نوید مختار سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

مذاکرات میں پاکستان کو بھارت کی جانب سے غیرمستحکم کرنے کےاقدامات پر بات چیت کی گئی، اس کے علاوہ بھارت کی بلوچستان میں مداخلت اورایل اوسی پرجارحیت پربھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مذاکرات میں پاک امریکا تعلقات اورخطے کی صورتحال پربھی گفتگو کی گئی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top