The news is by your side.

Advertisement

ارشد شریف اور اے آر وائی نیوز پر درج مقدمے واپس لیے جائیں: ریاض پیرزادہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی تعاون ریاض پیر زادہ کا کہنا ہے کہ اے آر وائی نیوز کے صحافی ارشد شریف نے انٹیلی جنس بیورو کی رپورٹ سے متعلق خبر دی، ان کی خبر کی کوئی تردید ہی نہیں کی گئی، ارشد شریف اور اے آر وائی نیوز پر درج مقدمے واپس لیے جائیں۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ نے کہا کہ اے آر وائی نیوز کے صحافی ارشد شریف نے آئی بی کی رپورٹ سے متعلق اہم نشاندہی کی جس پر ان کا شکر گزار ہوں۔

یاد رہے کہ 26 ستمبر کو اے آر وائی نیوز کے پروگرام پاور پلے میں انکشاف کیا گیا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 37 اراکین پارلیمنٹ کے خلاف آئی بی سے چھان بین کروائی تھی اور مذکورہ اراکین اسمبلی پر کالعدم تنظیموں سے رابطوں کا الزام عائد کیا تھا۔

آئی بی نے 10 جولائی2017 کو اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کے حکم پرایک رپورٹ مرتب کی جس میں37 اراکین اسمبلی کے نام شامل کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کے کالعدم دہشت گرد تنظیموں سے نہ صرف رابطے ہیں بلکہ اراکین اسمبلی ان سے لین دین اور ناجائز سرگرمیوں میں بھی ملوث ہیں۔

بعد ازاں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ آئی بی اور حکومت کو بدنام کرنے کے لیے یہ بات پھیلائی گئی۔ آئی بی کے خط میں جن ارکان اسمبلی کا نام آیا، وہ شکایت داخل کردیں، تحقیقات کر رہے ہیں، آئی بی کو ہدایت دی ہے کہ اس جعلی دستاویز کے خلاف ایف آئی آر درج کرے کہ اس کے نام پر ایسی دستاویز کیسے نکلی؟

مذکورہ معاملے کے بارے میں پیمرا میں بھی رپورٹ درج کروائی گئی تاہم اس کے ساتھ ہی ارشد شریف کو آئی بی کی جانب سے دھمکیاں موصول ہونے لگیں جبکہ ارشد شریف اور اے آر وائی نیوز کے خلاف مقدمہ بھی درج کردیا گیا۔

وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ نے خط کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ میرا شکوہ وزیر اعظم ہاؤس سے ہے کیونکہ خط وہاں سے نکالا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ارشد شریف اور اے آر وائی نیوز پر درج مقدمے واپس لیے جائیں۔ میڈیا ہاؤس کو ڈرایا یا دھمکایا نہیں جا سکتا۔ انٹیلی جنس بیورو نے اے آر وائی پر اپنے جرم کو چھپانے کے لیے ایف آئی آر کٹوائی۔


شہباز شریف کو پارٹی سنبھالنی چاہیئے

ریاض پیر زادہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف پر کیسز ہیں شہباز شریف کو پارٹی سنبھالنی چاہیئے تھی۔ دو بار حکومت کر کے بھی ملک کو درست نہیں کر سکے۔

انہوں نے اراکین اسمبلی کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی اپنے ووٹ کا درست استعمال کرنا چاہیئے۔ وقت آگیا ہے کہ اراکین اسمبلی کو ضمیر کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، ’یہ نہیں کوئی بھی بل پیش کیا جائے اور فوری منظوری دے دیں، صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنے کا وقت آگیا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ انصاف فوج نہیں دے سکتی، پارلیمنٹ نے دینا تھا۔ پارلیمنٹ اپنا کام درست طور پر نہیں کر سکی۔ آج عوام میں اضطراب کی وجہ پارلیمنٹ کا کام نہ کرنا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں