The news is by your side.

بھارت میں کھانا پکانے کے تیل کی قلت کے بعد متبادل طریقہ سامنے آگیا

نئی دہلی: بھارت میں درآمدی تیل کی کمی کی وجہ سے مقامی طور پر چاول کی بھوسی سے تیل تیار کیا جارہا ہے جو عوام میں بھی مقبول ہورہا ہے۔

بھارت میں چاول کی بھوسی کی طلب میں اضافہ ہورہا ہے کیونکہ سبزیوں کے تیل کا دنیا کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ملک بھارت عالمی سپلائی میں رکاوٹ کی وجہ سے خوردنی تیل کی کمی پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔

چاول کی گھسائی میں ایک ضمنی پیداوار، چاول کی چوکر یا بھوسی روایتی طور پر مویشیوں اور مرغیوں کی خوراک کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔

حالیہ برسوں میں، آئل ملز نے چاول کا تیل نکالنا شروع کر دیا ہے، جو کہ صحت کے بارے میں شعور رکھنے والے صارفین میں مقبول ہے لیکن تاریخی طور پر حریفوں کے تیل سے زیادہ مہنگا ہے۔

اس صنعت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں چاول کی چوکر کے تیل کی مجموعی کھپت کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے لیکن یہ خوردنی تیلوں میں سب سے تیزی سے بڑھنے والے تیلوں میں سے ایک ہے، اور طلب کو پورا کرنے کے لیے پیداوار اور درآمدات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

انڈونیشیا کی جانب سے پام آئل کی برآمدات پر پابندیوں اور یوکرین سے سورج مکھی کے تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں کی وجہ سے عالمی خوردنی تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے حریف تیلوں پر رائس بران آئل کے روایتی پریمیم کو ختم کر دیا ہے۔

اس سے چوکر کے تیل کی طلب میں اضافہ ہوا ہے جس کے ذائقے کی خصوصیات سورج مکھی کے تیل سے ملتی جلتی ہیں۔

بین الاقوامی ایسوسی ایشن آف رائس بران آئل (IARBO) کے سیکرٹری جنرل بی وی مہتا نے کہا کہ جیسے جیسے یوکرین سے سورج مکھی کے تیل کی درآمد میں کمی آئی، صارفین نے اسے چاول کی چوکر کے تیل سے بدلنا شروع کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان عام طور پر اپنی سورج مکھی کے تیل کی دو تہائی سے زیادہ ضروریات یوکرین سے درآمدات کے ذریعے پوری کرتا ہے۔

بھارت میں، چاول کی چوکر کا تیل اب 1 لاکھ 47 ہزار بھارتی روپے فی ٹن پر فروخت ہو رہا ہے جبکہ سورج مکھی کے تیل کی قیمت 1 لاکھ 70 ہزار روپے ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں