روہنگیا مظالم، رائس ایکسپورٹ ایسوسی ایشن کا 1 ہزار خاندانوں کو پاکستان لانے اور کفالت کا
The news is by your side.

Advertisement

روہنگیا مظالم، رائس ایکسپورٹ ایسوسی ایشن کا 1 ہزار خاندانوں کو پاکستان لانے اور کفالت کا اعلان

کراچی: رائس ایکسپورٹ ایسوسی ایشن نے برما حکومت کے مظالم کا نشانہ بننے والے ایک ہزار مظلوم روہنگیا کے مسلمان خاندانوں کو پاکستان لانے اور اُن کی کفالت کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق برمی حکومت اور فوج کی جانب سے مظلوم مسلمانوں پر مظالم جاری ہیں جس کے باعث سیکڑوں مظلوم شہری قتل جبکہ متعدد گھروں کو آگ لگائی جاچکی ہے، سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل ہونے کے بعد دنیا بھر سے روہنگیا کے مسلمانوں کے لیے مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے مظالم کے خلاف آواز بلند کی۔

مظلوم مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو دیکھتے ہوئے رائس ایکسپورٹر ایسوی ایشن نے ایک ہزار روہنگیا کے مسلم خاندانوں کی پاکستان منتقلی اور آباد کاری کے لئے وزارت داخلہ، وزارت خارجہ ، برما کے سفیر اور اقوام متحدہ کے پاکستان مشن کو خط ارسال کردئیے ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ رائس ایکسپورٹ ایسوسی ایشن ایک ہزار مظلوم مسلمان خاندانوں کو پاکستان لانے اور اُن کے تمام اخراجات برداشت کرنے کو تیار ہیں، پاکستان منتقل ہونے والے خاندانوں کو جگہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ باعزت نوکری بچوں کی تعلیم پر آنے والے اخراجات رائس ایکسپورٹ ایسو سی ایشن ہی برداشت کرے گی۔

چیئرمین رائس ایکسپورٹز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمود مولوی نے کہا کہ ہم پاکستان منتقل ہونے والے مظلوم مسلمانوں کو ماہانہ راشن اور دیگر اخراجات ادا کرنے پر بھی رضا مند ہیں، تاجر رہنماء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ روہنگیا کے مسلمانوں کو جلد از جلد پاکستان لانے کے لیے قانونی دستاویزات مکمل کرے اور متاثرہ خاندانوں کو پاکستان لانے کی اجازت دے۔

چیئرمین رائس ایسوسی ایشن نے کہا کہ حکومت کی منظوری کے بعد پاکستان آنے والے روہنگیا کے مسلمانوں کو نہ صرف آباد کیا جائے گا بلکہ انہیں روزگار فراہم کر کے باعزت زندگی گزارنے کے مواقع بھی راہم کیے جائیں گے جبکہ بچوں کی تعلیم و صحت پر آنے والے تمام اخراجات بھی ایسوسی ایشن ہی برداشت کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ رائس ایکسپورٹ ایسوسی ایشن کا وفد جلد بنگلہ دیش جانا چاہتا ہے تاکہ وہاں منتقل ہونے والے خاندانوں کو راشن تقسیم کیا جاسکے اور انہیں طبی امداد بھی کی جاسکیں، پاکستانی حکومت بنگلہ دیش میں موجود سفیر کے ذریعے ویزہ جاری کروائے اور دورے کے لیے جانے والے وفد کو مہاجرین کے کیمپس کا دورہ کروائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں