اسلام آباد : بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور خیبرپختوںخواہ کابینہ کی تشکیل پر پی ٹی آئی میں گروپ بندی اور اختلافات شدت اختیار کرگئے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف میں گروپ بندی اور اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ بانی سے ملاقاتوں اور خیبرپختونخوا کابینہ کی تشکیل کے معاملات پر پارٹی کے دو بڑے گروپس میں اختلافات سامنے آئے۔
دستاویزات میں بتایا گیا سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ملاقات کے لیے دو علیحدہ لسٹیں موصول ہوئیں، ایک سلمان اکرم راجہ کی جانب سے اور دوسری علی ظفر کی جانب سے۔ دونوں فہرستوں میں چھ میں سے تین نام مختلف ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے عدالت کو دی گئی ناموں کی فہرست میں ردوبدل کا انکشاف ہوا، یکم اکتوبر کو بانی پی ٹی آئی نے جیل ملاقاتوں اور کیسز کے معاملات دیکھنے کے لیے تین ارکان حامد خان، بیرسٹر گوہر اور علی ظفر کے نام دیے تھے، اور یہ طے پایا تھا کہ ملاقاتیوں کے نام جیل انتظامیہ کو علی ظفر فراہم کریں گے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے سلمان اکرم راجہ کا نام علیمہ خانم کے کہنے پر شامل کیا گیا، کیونکہ علی ظفر مخالف گروپ کے ہیں۔
ذرائع نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کابینہ کی تشکیل کے معاملے پر بھی اختلافات سامنے آئے ہیں. بانی پی ٹی آئی نے چند روز قبل مزمل اسلم اور بیرسٹر سیف کو کابینہ میں شامل کرنے کی ہدایت دی تھی، تاہم بعد میں دوسرے گروپ نے مؤقف اختیار کیا کہ کابینہ کے نام پارٹی سربراہ کی طرف سے نہیں دیے گئے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر بھی مختلف گروپس کی جانب سے دباؤ بڑھ رہا ہے کہ کابینہ میں ان کے نمائندوں کو شامل کیا جائے، پارٹی کے اندرونی اختلافات کے باعث فیصلہ سازی کا عمل مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔
نعیم اشرف بٹ اے آر وائی نیوز کے
تحقیقاتی صحافت کے ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں


