The news is by your side.

Advertisement

سعودیہ عرب: شامی و یمنی مہاجرین پر سے لیوی ٹیکس ہٹانے کا مطالبہ

ریاض: انسانی حقوق کی تنظیموں نے سعودی حکومت کی جانب سے عائد کردہ نئے لیوی ٹیکس میں مہاجرین کو بھی شامل کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ انہیں ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔

الجزیرہ ڈاٹ کام کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہےکہ سعودی حکومت یمنی اور شامی مہاجرین کو اس ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے کیوں کہ وہ مہاجرین ہیں۔

خیال رہے کہ سعودی حکومت نے حال ہی میں غیر ملکی باشندوں کے اہل خانہ پر فی کس 100 ریال ماہانہ ٹیکس عائد کردیا ہے جو کہ یکم جولائی سے نافذ العمل ہے جس میں 2020ء تک ہر سال 100 ریال کا مزید اضافہ ہوتا رہے گا۔

انسانی حقوق کی ایک تنظیم یورو میڈ رائٹ نے کہا ہے کہ لیوی ٹیکس عائد کرنے کے فیصلے میں مہاجرین کو شامل کرنا غلط ہے کیوں کہ اس سے ان کے طرز زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔

این جی او کا کہنا ہے کہ یہ شام اور یمن کے مہاجرین جنگ کی وجہ سے پہلے ہی بے گھر ہوچکے ہیں یہ ان لوگوں کے برابر نہیں جو سیاحت، نوکری، کاروبار یا پڑھنے کے لیے سعودی عرب آئے ہیں، مہاجرین کو اس کیٹگری میں رکھنا ہی غلط ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق سعودی حکومت لازمی طور پر اس معاملے کو انسانی حقوق کے طور پر لے، شامی اور یمنی مہاجرین کے موجودہ حالات پر غور کرے یہ افراد اپنے اور بچوں کے تحفظ کی تلاش میں یہاں آئے ہیں اور آرہے ہیں۔


یہ پڑھیں: سعودی عرب: ہر غیر ملکی پر100 ریال ماہانہ لیوی ٹیکس عائد


 اب تک کی اطلاعات کے مطابق یہ لیوی ٹیکس اقامہ کی تجدید کے وقت وصول کیے جانے کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق شام میں پانچ سال قبل شروع ہونے والی خانہ جنگی کے سبب 50لاکھ سے زائد شامی باشندے بے گھر ہوچکے ہیں اور دیگر ممالک میں مہاجرین بن کر زندگی گزارنے مجبور ہیں ان میں کم از کم 24 لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزین ادارے یو این ایچ سی آر کے مطابق اسی طرح 24 لاکھ یمنی باشندے بے گھر ہوکر مہاجرین بن چکے ہیں اور 1 لاکھ 20 ہزار یمنی پناہ کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

اسی سے متعلق: یہ ٹیکس لگانا بہت نقصان دہ ہوگا،معاشی ماہرین

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں