The news is by your side.

Advertisement

روشن مستقبل کی تلاش میں قطر آنے والے ہزاروں تارکین وطن فاقوں پر مجبور

دوحہ:ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ قطر میں تقریبا بیس لاکھ تارکین وطن کارکن موجود ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق جنوبی ایشیا اور افریقا سے ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے نے انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسیٹی انٹرنیشنل کے حوالے سے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا کہ مختلف تنصیبات اور عمارتوں کی تعمیر کے لیے دوسرے ملکوں سے آنے والے بہت سے کارکن ابھی تک اپنی اجرتیں وصول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

میڈیارپورٹس کے مطابق کچھ واقعات تو ایسے بھی ہیں کہ کارکنوں کو کئی کئی ماہ اور کئی سال کام کرنے کے بعد بھی ابھی تک اجرتیں نہیں ملیں اور وہ مایوس ہو کر اپنے تنخوائیں لیے بغیر خالی ہاتھ گھروں کو واپس جا رہے ہیں۔

انسانی حقوق کے گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا اور بین الاقوامی کمیونٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 2022 کے عالمی کپ سے پہلے قطر پر با معنی اصلاحات کے لیے مزید دبا ڈالے۔

برطانیہ کی انسانی حقوق کےلیے کام کرنے والی غیر سرکاری این جی اوایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہناہے کہ 2022 میں عالمی کپ کی میزبانی کرنے والے ملک میں تارکین وطن کارکنوں کی حالت زار کی جانب دنیا کی توجہ مبذول ہو رہی ہے، جن میں سے بہت سے اس وقت اسٹیڈیم اور انفرا اسٹرکچر تعمیر میں مصروف ہیں۔

اس بارے میں بہت سی شکایات موجود ہیں کہ مزدوروں کو ادائیگیاں نہیں کی جا رہیں، وہ بہت خراب حالات میں اور خطرناک تعمیراتی مقامات پر رہ رہے ہیں۔

عالمی تنقید کے بعد قطر کی حکومت 2018 میں کارکنوں کے حقوق کی اصلاحات پر رضامند ہو گئی تھی اور اس نے مزدوروں کے تنازعات کے حل کے لیے کمیٹیاں اور ان کارکنوں کی مدد کے لیے ایک انشورنس فنڈ قائم کیا تھا جو اپنے آجروں کے خلاف قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے ایک عہدے دار مے رامنوس کا کہنا تھا کہ کاغذات پر تو سب ٹھیک لگتا ہے، تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ جب کارکنوں کو اپنی تنخواہیں نہیں ملتیں اور وہ اپنے مقدمات عدالت میں لے جانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ایک طویل قانونی جنگ میں الجھ جاتے ہیں۔

این جی او کا کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے کوئی فیصلہ حاصل کرنے میں انہیںتین سے آٹھ ماہ لگتے ہیں اور اس کے بعد بھی انہیں آخر میں رقم نہیں ملتی،ان میں سے بہت سے یا تو امید کا دامن چھوڑ کر خالی ہاتھ وطن واپس چلے جاتے ہیں یا انتہائی مشکل حالات میں قطر میں قیام کرتے ہیں، اس امید پر کہ انہیں یہ رقم مل جائے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں