ممبئی (23 جنوری 2026): بالی ووڈ کی مشہور کامیڈی فلم ’پھر ہیرا پھیری‘ کی اداکارہ ریمی سین نے اداکاری چھوڑ کر دبئی کے رئیل اسٹیٹ شعبے میں قدم رکھ دیا۔
ریمی سین، جو 2000 کی دہائی میں متعدد ہٹ بھارتی فلموں میں نظر آئی تھیں، اب ایک نئی وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔ اداکارہ نے کچھ عرصے سے انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے وقفہ لے رکھا تھا۔ رپورٹس کے مطابق، ریمی سین نے اداکاری چھوڑ کر دبئی میں مکمل طور پر رئیل اسٹیٹ ایجنٹ کے طور پر کام شروع کر دیا ہے۔ سابقہ بالی ووڈ اداکارہ کا ایک ویڈیو انٹرویو سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہا ہے، جس میں وہ رئیل اسٹیٹ بروکر کے طور پر اپنے بدلے ہوئے روپ میں نظر آ رہی ہیں۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ریمی سین نے چند سال قبل کاسمیٹک پروسیجرز کروائے تھے، جن میں فلرز، بوٹاکس اور پی آر پی ٹریٹمنٹ شامل ہیں۔ گول مال فلم کی اسٹار اب اپنے نئے کردار میں بالکل مختلف نظر آ رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بالی ووڈ چھوڑنے کے بعد ریمی سین دبئی منتقل ہو گئیں اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں مواقع تلاش کرنے لگیں۔ یہ بات اہم ہے کہ دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ بہت ترقی پذیر ہے اور بہت سی بھارتی شخصیات نے دبئی اور دیگر خلیجی ممالک میں پراپرٹیز میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔
بلڈ کیپس رئیل اسٹیٹ ایل ایل سی کی طرف سے پوسٹ کیے گئے ویڈیو انٹرویو میں ریمی سین کا چہرہ مختلف نظر آ رہا ہے، ان کے ہونٹوں میں فلرز واضح ہیں۔ رئیل اسٹیٹ فرم کے ساتھ بات چیت کے دوران سابقہ اداکارہ نے کیریئر تبدیل کرنے کی وجوہات بتائیں۔
اداکارہ ریمی سین نے کہا "دبئی بہت خوش آمدید کہنے والا شہر ہے، اسی وجہ سے یہاں کی 95 فیصد آبادی تارکینِ وطن پر مشتمل ہے، باقی مقامی اماراتی ہیں۔ دبئی نے سب کو دل سے خوش آمدید کہا ہے، یہاں مساجد بھی ہیں اور مندر بھی۔ وہ سب کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں، اور شہر کا بنیادی مقصد لوگوں کی زندگیوں کو بہتر، آسان اور آرام دہ بنانا ہے۔”
اداکارہ کا مزید کہنا تھا کہ یہ وہ بنیادی چیز ہے جو ہم اپنے ملک میں اکثر نہیں دیکھتے، کیونکہ حکومت اکثر غیر متوقع طور پر پالیسیاں تبدیل کر دیتی ہے، جو شہریوں کی زندگی کو پیچیدہ بنا دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں بے شمار ٹیکس اور لامتناہی بیوروکریٹک رکاوٹیں ہیں، جو کاروبار کے لیے کم سازگار ہیں۔ یہاں ریئل اسٹیٹ سیکٹر موثر طریقے سے کام کرتا ہے کیونکہ اس کا ڈھانچہ منظم ہے۔ آپ کو صرف ایجنٹس اور ایجنسیوں کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے۔ ڈویلپرز اپنا کام کرتے ہیں، ایجنسیاں اپنا، اور ایک اچھا منظم نظام موجود ہے۔
ریمی سین لگژری کاریں بنانے والی کمپنی کے خلاف عدالت پہنچ گئیں
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


