site
stats
کھیل

ریو اولمپکس : ایرانی دستے کی معذور قائد لوگوں کی توجہ کا مرکز

ریو: اولمپکس کی کی افتتاحی تقریب گزر گئی مگر اس دوران ایسے مناظر دیکھنے میں آئے جسے کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کیا اور ان پر تبصرے کیے گئے۔

ریو ڈی جینرو کی افتتاحی تقریب کے دوران ایک بہترین منظر اُس وقت دیکھنے میں آیا جب ایران کا دستہ میدان میں داخل ہوا، حیران کن طور پر  اس دستے کی سربراہی معذور خاتون اپنے ہاتھوں میں ایران کا جھنڈا لیے کررہی تھیں۔

وہیل چیئرپر بیٹھی اس 31 سالہ خاتون کا نام زہرہ نعمتی تھا جو خود گرمائی اولمپکس میں پہلی بار حصہ لے رہی ہیں۔ اپاہجگی کے باوجود کچھ کرنے کا عزم لیے اس خاتون کی کہانی دیگر کھلاڑیوں سے بہت مختلف ہے۔

ZEHRA POST 1

زہرہ نعمتی ایران کی جانب سے پہلے اولمپکس میں بطور تائیکوانڈو کھلاڑی حصہ لے چکی ہوتیں مگر 2008 میں ہونے والے گاڑی کے حادثے کے باعث وہ اپاہج ہوگئیں مگر دل میں کچھ کرنے کا جذبہ لیے اس متاثرہ کھلاڑی نے اپنے پروفیشن کو چھوڑ کر تیر اندازی میں مہارت حاصل کی اور اب وہ بطور تیر انداز ریو اولمپکس میں حصہ لے رہی ہیں۔

ZEHRA POST 2

زہرہ نعمتی کا کہنا ہے کہ ’’میں کھیل کی دنیا کا حصہ رہنا چاہتی ہوں اس لیے اپنی خواہش کو جاری رکھنے کے لیے تیز اندازی کا پیشہ اختیار کیا۔

قبل ازیں زہرہ معذور افراد کے اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتنے میں کامیاب رہی ہیں جبکہ جمعے کو افتتاحی تقریب کے بعد تیر اندازی کے مقابلے میں وہ 49ویں پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھیں، اس موقع پر اُن کا کہنا تھا کہ ’’میں نے آج اپنے مقصد کو پالیا اور بہترین نتیجہ حاصل کیا جس سے میرا اور میرے ملک کا نام روشن ہوا، آج مجھے علم ہوگیا کہ میں کتنی مضبوط ہوں اور میرے خاندان سمیت اردگرد رہنے والے لوگ بھی مجھ پر فخر کررہے ہیں جو میرے لیے بہت حسین لمحہ ہے‘‘۔

ZEHRA POST 4

اولمپکس میں حصہ لینے کے بعد انہوں نے اُن تمام معذورافراد کو پیغام دیا جو معذوری کے باعث کھیلوں کی دنیا سے دور ہوگئے ہیں ’’اُن کا کہنا تھا کہ اگر انسان اپنے اندر ہمت پیدا کرے اور کچھ کرنے کا فیصلہ کر لے تو اُسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی‘‘۔

اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں 207 ممالک کی جانب سے دستے پیش کیے گیے تاہم زہرہ نعمتی کی وجہ سے ایران کی ٹیم دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی، یاد رہے اقوام متحدہ نے زہرہ نعمتی کو خیر سگالی کا سفیر بھی مقرر کیا ہے۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top