نوبیل کمیٹی میں جنسی اسکینڈل کے باعث بحران شدید تر ہوگیا، سویڈش بادشاہ کی مداخلت -
The news is by your side.

Advertisement

نوبیل کمیٹی میں جنسی اسکینڈل کے باعث بحران شدید تر ہوگیا، سویڈش بادشاہ کی مداخلت

سویڈن: بین الاقوامی نوبیل کمیٹی کے ایک اور رکن نے استعفیٰ دے دیا ہے جس کے بعد جنسی اسکینڈل کے باعث پیدا ہونے والا بحران شدید تر ہوگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ادب کے شعبے میں نوبیل انعام دینے والی کمیٹی جو سویڈش اکیڈمی کہلائی جاتی ہے، میں جنسی ہراسگی کے باعث استعفیٰ دینے والے اراکین کی تعداد چھ ہوگئی ہے۔

کمیٹی کے معاملات اس وقت مزید خراب ہوگئے جب کمیٹی کی پہلی مستقل خاتون سیکریٹری سارا ڈینئس کو کمیٹی سے وابستہ مشہور فوٹوگرافر جین کلاڈ ارنالٹ کے خلاف جنسی ہراسگی کے الزامات پر عہدے سے برطرف کیا گیا۔

خبر کے مطابق سارا ڈینئس کے جانے سے کمیٹی کی اٹھارہ سیٹوں میں سے سات سیٹیں خالی ہوچکی ہیں جس کے باعث کمیٹی اب کسی خالی سیٹ پر کسی اور رکن کی تقرری نہیں کرسکتی کیوں کہ ضابطے کے مطابق بارہ ارکان کا کورم پورا ہونا ضروری ہے۔ کورم پورا کرنے کے لیے سویڈن کے بادشاہ نے مداخلت کرتے ہوئے ضابطوں میں تبدیلی کرنے کا حکم دے دیا تاکہ کمیٹی کا کام جاری رہ سکے۔

نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے 12 سنہری افکار

قبل ازیں سویڈش اکیڈمی نے جنسی ہراسگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیٹی کی اٹھارہ خواتین ارکان کو فرانسیسی باشندے جین ارنالٹ نے بلیک لسٹ کرنےکی دھمکی دے کر جنسی طور پر ہراساں کیا۔ واضح رہے کہ الزامات کا یہ کیس 1996 سے 2017 کے درمیان طویل عرصے پر مشتمل ہے۔

کمیٹی نے اس بات کی بھی تصدیق کردی ہے کہ نوبیل انعام کے لیے منتخب ہونے والے ادیبوں کے نام بھی تواتر کے ساتھ وقت سے قبل منکشف ہوتے رہے ہیں، ان الزامات نے ادب میں نوبیل انعام کی ساکھ کو شدید طور پر متاثر کیا ہے۔

واضح رہے کہ ارنالٹ سویڈش اکیڈمی کی ایک رکن کیٹرینا فراسٹنسن کے شوہر ہیں، جس کی وجہ سے کمیٹی میں انھیں بہت زیادہ عمل دخل حاصل تھا، خواتین ارکان کا مطالبہ تھا کہ فراسٹنسن سے استعفیٰ لیا جائے جو اکیڈمی ضابطہ اخلاق کے باعث ممکن نہیں تھا جس پر احتجاج کرتے ہوئے خواتین ارکان نے استعفے دیے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں