The news is by your side.

برطانیہ کا چین کے ساتھ سنہرا دور ختم کرنے کیلئے حکمت عملی بدلنے کا فیصلہ

برطانوی  وزیراعظم رشی سونک نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات کا نام نہاد ’سنہرا دور‘ ختم ہو گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانوی وزیر اعظم رشی سونک نے اپنی پہلی خارجہ پالیسی سے متعلق تقریر میں کہا کہ چین کے حوالے سے برطانیہ کی حکمت عملی کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

بھارتی نژاد رشی شونک کا کہنا تھا کہ بیجنگ شعوری طور پر ہماری ریاستی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کے لیے مقابلہ کر رہا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ چین ہماری اقدار اور مفادات کے لیے ایک چیلنج ہے، ان کے اس فیصلے پر کنزرویٹو پارٹی میں سے چند ارکان نے ان پر تنقید کی ہے۔

برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم بین الاقوامی معاملات میں چین کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کر سکتے، ہامرے ساتھ امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا، جاپان اور بہت سے دوسرے لوگ بھی اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔

برطانوی وزیراعظم نے یوکرین کے حوالے سے کہا کہ حکومت سابق وزرائے اعظم بورس جانسن اور لز ٹرس کی حمایت کو برقرار رکھتے ہوئے آئندہ سال کیئف کی فوجی امداد جاری رکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں اس جنگ میں جتنا وقت بھی لگے ہم یوکرین کے ساتھ اس وقت تک کھڑے رہیں گے۔  ہم اپنی فوجی امداد برقرار رکھیں گے اور ہم فضائی دفاع کے لیے یوکرین کو نئی مدد فراہم کرتے رہیں گے۔

رشی سونک کا مزید کہنا تھا کہ برطانیہ کو وہی طویل مدتی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے جیسا کہ اس کے مخالفین اور حریف روس اور چین نے اپنا رکھی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس بطور وزیر خزانہ انہوں نے اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے خدشات پر چین کے حوالے سے ایک حکمت عملی پر زور دیا تھا۔

تاہم سونک اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان رواں ماہ بالی میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس کے موقعے پر طے شدہ ملاقات منسوخ ہو گئی تھی۔

دوسری جانب گذشتہ ہفتے لندن نے حساس سرکاری عمارتوں میں چینی ساختہ سکیورٹی کیمروں پر پابندی لگا دی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں