The news is by your side.

Advertisement

ہندو انتہاپسندی کے بڑھتے واقعات: ایک اور نوجوان تشدد کے بعد ہلاک

بھارت میں ہندو توا کی شدت پسندی سے مسلمان تو نشانہ بن رہے ہیں ساتھ ساتھ دیگر اقلیتیں بھی متاثر ہورہی ہیں۔

ہندو انتہا پسندی کا ایک اور واقعہ کچھ روز قبل ریاست ہریانہ میں پیش آیا، جس میں نچلی ذات کا ایک 18 سالہ ہندو طالب علم ہجوم کے تشدد کا نشانہ بنا جو اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گیا۔

پولیس ایف آئی آر کے مطابق گورو نامی 18 سالہ طالب علم 9 اکتوبر کو اپنی موٹر سائیکل پر شہر سے واپس گھر لوٹ رہا تھا کہ اچانک اس پر 10 افراد نے لاٹھی اور ڈنڈوں سے حملہ کردیا۔

حملہ آوروں میں سے ایک شخص واقعے کی ویڈیو بناتا رہا جب کہ دیگر نوجوان پر ڈنڈوں کی بارش کرتے رہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک ملزم گورو کو پٹائی کے دوران پانی بھی پلاتا رہا تاکہ متاثرہ شخص کو تڑپا تڑپا کر مارے۔

رپورٹ کے مطابق گورو کی ہجوم کی پٹائی سے نیم مردہ ہوا تو ملزمان اسے سڑک پر چھوڑ کر فرار ہوگئے، جس کے بعد اہل خانہ نے متاثرہ نوجوان کو اسپتال منتقل کیا جہاں وہ تین دن زیر علاج رہنے کے بعد دم توڑ گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی موت کی وجہ بہیمانہ تشدد کو قرار دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے نوجوان کی موت اور پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے کے باوجود اب تک صرف ایک ملزم کو گرفتار کیا ہے جس کی شناخت وکی عرف پھکرا کے نام سے ہوئی ہے جب کہ دیگر ملزمان تاحال پولیس کی گرفت سے باہر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مقتول نوجوان کا واقعے کے مرکزی ملزم روی سے کسی بات پر بحث ہوئی تھی جس کے بعد روی نے اپنے دوستوں کے ہمراہ گورو کو تشدد کا نشانہ بنایا جو اس کی موت کا باعث بنا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں