ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماری، ذیابیطس، یا خون کی گردش کے مسائل میں مبتلا افراد کو سردی سے بچاؤ مشکل ہوسکتا ہے ایسے مریضوں کو دل کے دورے (ہارٹ اٹیک) سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔
طبی ماہرین کے مطابق اس موسم میں دل کے پٹھوں کو خون پہنچانے والی نالیاں بھی سکڑ جاتی ہیں اور دل کو زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے، یعنی ہلکی سردی بھی خطرے میں پڑنے والوں میں حملہ کرسکتی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے نمائندے انور خان نے بتایا کہ کراچی سب سے بڑے قومی ادارہ امراض قلب ’این آئی سی وی ڈی‘میں سرد موسم کے آغاز میں ہی دل کے مریضوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صرف ایمرجنسی وارڈ میں مریضوں کی یومیہ تعداد میں 800 سے ایک ہزار تک اضافہ سامنے آیا ہے، جن میں سے زیادہ تر مریضوں کی عمریں 35 سے 40 سال کے درمیان ہیں۔
اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں این آئی سی وی ڈی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کارڈیالوجی ڈاکٹر بشیر احمد سولنگی نے ہارٹ اٹیک اور اس سے بچاؤ سے متعلق اہم باتیں بتائیں۔
سردی میں دل کے دورے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ سرد موسم میں جسم حرارت برقرار رکھنے کے لیے زیادہ دباؤ ڈالتا ہے، اس دباؤ سے ہائی بلڈ پریشر ہو جاتا ہے جو ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ سردیوں میں جسم کا پانی کم ہونے سے خون کچھ گاڑھا ہوجاتا ہے، اس سے بلڈ کلاٹ (خون کے لوتھڑے) بننے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جو دل کی شریانوں کو بند کر سکتے ہیں۔
سردیوں میں فلو، نمونیا وغیرہ عام ہوتے ہیں جو دل کے مریضوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ یاد رکھیں صبح سویرے ٹھنڈا پانی استعمال پینا، جو سب سے زیادی سرد وقت ہوتا ہے، اور اس وقت ہارٹ اٹیک کے کیسز زیادہ دیکھے گئے ہیں۔
دل کے دورے سے بچاؤ کیلیے انہوں نے بتایا کہ گرم کپڑے پہنیں، خاص طور پر سینہ اور سر ڈھانپیں۔ صبح جلدی سرد موسم میں ورزش یا بھاگنے سے پرہیز کریں۔ پانی مناسب مقدار میں پیتے رہیں۔ بلڈ پریشر اور شوگر کو کنٹرول میں رکھیں اور اگر سینے میں درد، سانس پھولنا یا بے چینی محسوس ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔


