The news is by your side.

ہاف فرائی انڈے کھانے والے ہوشیار

صبح کی پہلی غذا کے لیے عموماً انڈا بہترین سمجھا جاتا ہے، لیکن اگر آپ انڈے کو فرائی کر کے کھانے کے عادی ہیں تو پھر آپ کو اس کے خطرے سے آگاہ ہونا چاہیئے۔

انڈا ایک مکمل غذا ہے اور دنیا کی بڑی آبادی کی صبح کی پہلی غذا بھی یہی ہے۔ اسے مختلف طرح سے پکایا جاتا ہے لیکن لوگوں کی بڑی تعداد اکثر فرائی کیا ہوا انڈا کچی زردی کے ساتھ کھانا پسند کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کچی زردی اگرچہ مزیدار ہوتی ہے لیکن اس میں سب سے بڑا خطرہ سالمونیلا کا ہے۔

سالمونیلا ایک بیکٹیریا ہے جو آلودہ پانی اور غذا میں پایا جاتا ہے جو کئی طرح کی بیماریوں جیسے اسہال، بخار، سردی لگنا اوربعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ شدید علامات کے طور پر سامنے آتا ہے۔

سالمونیلا کچے یا کم پکے ہوئے کھانوں میں پکے ہوئے اجزا کے مقابلے میں زیادہ عام ہے۔ جانوروں سے حاصل شدہ کوئی بھی غذا جیسے انڈے، مرغی، گائے کا گوشت اور مچھلی کے سالمونیلا سے آلودہ ہونے کا قوی امکان ہے۔

ماہر غذائیات کا کہنا ہے کہ ان میں سے کسی بھی غذا کو کھانا محفوظ نہیں ہے اگر وہ کچی یا کم پکی ہوئی ہوں۔

ان کا کہنا ہے کہ جب انڈے کو فرائی کریں تو اسے کم از کم 2 سے 3 منٹ تک پکائیں، جب آپ فرائی پین کو ہلائیں تو انڈے کی سفیدی کو ہلنا نہیں چاہیئے، اور جیلی جیسی سفیدی باقی نہیں رہنی چاہیئے۔ زردی کو بالکل بھی کچا نہیں رہنا چاہیئے۔

ماہرین کے مطابق ٹوٹے ہوئے خول والے انڈوں کو ضائع کرنا ضروری ہے، اگر آپ اپنے انڈے کسی فارم سے حاصل کرتے ہیں، تو انڈے پکانے سے پہلے انہیں اچھی طرح دھولیں، آخر میں، بیکٹیریا کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کچے انڈوں کو محفوظ کرنے سے پہلے اور بعد میں اپنے ہاتھ دھو لیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کچی یا کم پکی ہوئی زردی عموماً صحت مند بالغ افراد کے لیے محفوظ ہوتی ہے، تاہم حاملہ خواتین، 5 سال سے کم عمر بچے، اور وہ لوگ جن کا مدافعتی نظام کمزور ہو انہیں کچی زردی کھانے سے گریز کرنا چاہیئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں