فلم کی دنیا میں ریاض شاہد کے پسندیدہ موضوعات انقلابی، تاریخی اور جدوجہدِ آزادی پر مبنی رہے ہیں، مگر ان کی عملی زندگی کا آغاز افسانہ نگاری اور صحافت سے ہوا تھا۔ بعد کے برسوں میں انھیں ایک مایہ ناز فلم ساز اور ہدایت کار ہی نہیں ایک بہترین فلمی مصنّف کے طور پر بھی پہچانا گیا۔ وہ ایسے ہدایت کار تھے جس نے اپنے تاریخی اسکرپٹ کو اس طرح اسکرین پر پیش کیا فلم بینوں نے خود کو ماضی میں پایا۔ ریاض شاہد ریاض شاہد 1972ء میں آج ہی کے روز انتقال کرگئے تھے۔ انھیں کینسر کا مرض لاحق تھا۔
لاہور کے کشمیری گھرانے میں 1930ء میں آنکھ کھولنے والے ریاض شاہد کا اصل نام شیخ ریاض تھا۔ انھوں نے لاہور کے اسلامیہ کالج سے تعلیم حاصل مکمل کرنے کے بعد صحافت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اور ’چٹان‘ سے منسلک ہوگئے۔ بعد ازاں فیض احمد فیض کے جریدے ’لیل و نہار‘ سے وابستہ ہوئے۔ ریاض شاہد نے ’ہزار داستان‘ کے نام سے ایک ناول تحریر کیا اور بعد میں فلموں کا اسکرپٹ لکھنے لگے۔
ریاض شاہد ذاتی فلم ’’بہشت ‘‘ بنارہے تھے لیکن ان کا انتقال ہوگیا اور فلم کو بعد ازاں ہدایت کار حسن طارق نے مکمل کیا۔ ریاض شاہد ایک نظریاتی اور اپنے عقائد پر پختہ یقین رکھنے والے انسان تھے۔ فلمی دنیا میں آنے سے قبل وہ ادیب کے طور پر پہچانے گئے۔ ان کی کتاب ’’ہزار داستان‘‘ بہت مشہور ہے۔ فلم انڈسٹری میں ریاض شاہد کو ان کے جان دار اسکرپٹ اور کاٹ دار مکالموں کی وجہ سے بہت سراہا گیا۔ وہ ایسے فن کار تھے جن کی فلمی دنیا میں آمد کو نہایت خوشگوار اور مثبت سمجھا گیا کیوں کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ، ترقی پسند اور روشن خیال تھے۔ اس وقت جب مار دھاڑ اور جذباتی مناظر سے بھرپور فلمیں بنانے کا چلن شروع ہوچکا تھا اور فلم ساز پیسہ بنانے کے چکر میں معیار کو نظرانداز کررہے تھے تو ریاض شاہد نے مستند اور معیاری کام کیا اور سنجیدہ فلم بینوں کی توقعات پر پورا اترے۔ ریاض شاہد نے چند فلموں کے لیے نغمات بھی تحریر کیے۔
’بھروسہ‘ بطور مصنّف ان کی پہلی فلم تھی اور یہی فلم اُن کی وجہِ شہرت بنی۔ یہ فلم 1958ء میں نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی۔ اس کے بعد ریاض شاہد کی ایک اور فلم ’شہید‘ کے نام سے ریلیز ہوئی جسے پاکستانی فلم انڈسٹری کی تہلکہ خیز فلم کہا جاتا ہے۔ 1962ء میں ریاض شاہد بطور ہدایت کار سامنے آئے اور اپنی پہلی فلم ’سسرال‘ بنائی۔ یہ اپنے وقت کی ایک یادگار فلم ثابت ہوئی۔ اس کام یابی کے بعد ریاض شاہد نے فلم ’فرنگی‘ کی کہانی اور ’نیند‘ کا اسکرپٹ لکھا جب کہ 1967ء میں ایک اور فلم ’گناہ گار‘ سامنے آئی جو انہی کی تحریر کردہ تھی۔
ریاض شاہد کی تاریخی موضوعات پر فلمیں بہت مقبول ہوئیں۔ ان فلموں کو پاکستانی سنیما کی شاہکار کا درجہ حاصل ہوا جن میں مسئلہ فلسطین و کشمیر پر ’زرقا‘ اور ایک فلم ’یہ امن‘ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ فلم ’’غرناطہ‘‘ کو تاریخ کے موضوع پر ریاض شاہد کی بہترین کاوش تصور کیا جاتا ہے۔ فلم ساز ریاض شاہد نے تیس سے زائد فلموں کی کہانیاں اور مکالمے لکھے جن میں ’’شکوہ، خاموش رہو، آگ کا دریا، بدنام، بہشت اور حیدر علی‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔ انھوں نے اردو کے علاوہ چند پنجابی فلموں کے اسکرپٹ بھی لکھے جن میں سے ایک مشہور فلم’’ نظام لوہار‘‘ تھی۔
خداداد صلاحیتوں کے مالک ریاض شاہد کو پاکستانی فلمی صنعت کے سب سے معتبر سمجھے جانے والے نگار ایوارڈ سے گیارہ مرتبہ نوازا گیا۔ فلم ’’زرقا‘‘ پر انھیں تین نگار ایوارڈ دیے گئے تھے۔
فلم ساز ریاض شاہد نے اپنے زمانے کی مقبول اداکارہ نیلو سے شادی کی، ان کے بیٹے شان پاکستانی فلم انڈسٹری کے صفِ اوّل کے اداکار ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


