site
stats
Uncategorized

چترال کی وادی آرکاری میں راستے بند‘ غذائی قلت پیدا ہوگئی‘ مریض ستر کلومیٹر پیدل سفر پر مجبور

چترال: چترال سے 70 کلومیٹر دور وادی سفید آرکاری کے مکین شدید برف باری کے سبب گزشتہ 24روز سے پھنسے ہوئے ہیں‘ راستے بند ہونے سے غذائی اجناس کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وادی تک آنے والی واحد سڑک چارفروری سے ابھی تک بند ہے۔ سڑک پر46 کے قریب برفانی تودے گرے ہیں لیکن ضلعی انتظامیہ اس برف کو صاف کرنے کے لیے محض ایک ٹریکٹر فراہم کررہی ہے۔تاہم سڑک کے اس وسیع ٹکڑے پر جہاں پرچالیس سے زیادہ سینکڑوں فٹ اونچے برفانی تودے پڑے ہوں‘ اسے ٹریکٹر کے ذریعے صاف کرنا ناممکن ہے۔

post-1

وادی کے 12000 نفوس اس ستر کلومیٹر برف پوش راستے پر پیدل سفر کرنے پر مجبور ہیں جس پر مریض بھی چارپائی پرڈال کرلے جانا پڑتا ہے کیونکہ پورے وادی میں صرف ایک ڈسپنسری ہے جس میں ادویات بھی نہیں ہیں۔

post-2

خواتین اور بچوں سمیت وادی کے دیگر مکینوں نے احتجاج کرتے ہوئےکہا کہ اس وادی میں نہ تو اسپتال ہے‘ نہ سڑک‘ نہ سکول ہے اورنہ ہی کالج۔ سرکار کی طرف سے یہاں بجلی بھی فراہم نہیں کی یہاں کے لوگ آج بھی پتھر کے زمانے کی زندگی گزار رہے ہیں۔

post-3

احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے مقامی مقررین نے کہا کہ منتحب نمائندے ووٹ لینے کے وقت تو آتے ہیں مگر ایم پی اے یا ایم این اے بننے کے بعد پھر یہاں کا رخ بھی نہیں کرتے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک غیر سرکاری ادارے نے چھوٹا سابجلی گھر بنایا تھا جو حالیہ برف باری اور گلیشئر کی وجہ سے وہ بھی خراب ہوگیا اور پورا علاقہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔

post-4

مظاہرین نے بینر ز اور پلے کارڈ ہاتھوں میں اٹھا رکھے تھے جبکہ خواتین نے لالٹین اور مٹی کے تیل کا دیا ہاتھوں میں پکڑا ہوا تھا اور یہ کہہ رہے تھے کہ لالٹین میں ڈالنے کے لئے تیل بھی نہیں ہے کیونکہ راستہ ایک ماہ سے بند پڑا ہے تو تیل کیسے لایا جائے۔

شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں اضافہ
post-5

اے آروائی نیوز کےنمائندے گل حماد فاروقی دودن کا پیدل سفر کرتے ہوئے اس برف سے ڈھکے راستے سے گزر کر آرکاری پہنچ گئے جن کے پہنچنے پر عوام نےمسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واحد نشریاتی ادارہ ہے جن کا نمائندہ اس مشکل وقت لوگوں کی مسائل میڈیا کے ذریعے اجاگر کرنے کی خاطر دودن پیدل سفر کرتے ہوئے اس وادی میں پہنچ گیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top