منگل, اکتوبر 6, 2026
اشتہار

گیس سیکٹر کی ڈی ریگولیشن کا روڈ میپ تیار

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (4 اگست 2026): وفاقی حکومت نے عالمی بینک (ورلڈ بینک) کے تعاون سے گیس سیکٹر کی ڈی ریگولیشن کا روڈ میپ تیار کر لیا۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیرِ صدارت گیس سیکٹر میں اصلاحات پر اہم اجلاس ہوا جس میں عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں سوئی کمپنیوں کی تنظیم نو اور اَن بنڈلنگ اصلاحات کو منصوبے کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔ اصلاحات کے تحت ان کمپنیوں کے ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور انرجی کاروبار الگ کیے جائیں گے، سبسڈی کا نظام ازسرنو ترتیب دیا جائے گا اور صرف مستحق صارفین کو ٹارگیٹڈ ریلیف ملے گا۔ حکومت گیس مارکیٹ میں مرحلہ وار مارکیٹ کلیئرنگ پرائس کی جانب پیشرفت کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں تیل و گیس کا ایک اور ذخیرہ دریافت

اجلاس میں عالمی بینک نے گیس سیکٹر میں اصلاحات کیلیے تکنیکی معاونت اور بین الاقوامی تجربات فراہم کیے، سیکٹر میں اصلاحات کا روڈ میپ رواں ماہ منظوری کیلیے وزیر اعظم شہباز شریف کو پیش کیا جائے گا جبکہ منظوری کے بعد اس پر مرحلہ وار عملدرآمد شروع ہوگا۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ گیس سیکٹر میں مسابقتی، شفاف اور مؤثر مارکیٹ قائم کی جائے گی، ڈی ریگولیشن کے ساتھ مضبوط ریگولیٹری نظام بھی قائم کیا جائے گا۔

اجلاس میں کہا گیا کہ اوگرا کے کردار کو مزید مضبوط بنا کر مسابقتی گیس مارکیٹ کی نگرانی یقینی بنائی جائے گی، شعبے میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور شمولیت کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ گیس سیکٹر میں اصلاحات سے توانائی کا تحفظ مضبوط اور قیمتوں میں شفافیت آئے گی۔ اصلاحاتی پروگرام سے سوئی کمپنیوں کا مالی مستقبل مستحکم اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں