رابرٹ ریڈفورڈ (Robert Redford) کو ہالی وڈ کے ان فن کاروں میں شمار کیا جاتا ہے جنھوں نے نہ صرف اداکاری کے میدان میں اپنا لوہا منوایا بلکہ بطور ہدایت کار اور فلم ساز بھی کام یاب رہے۔ اس سے بڑھ کر انھیں ایک ایسے فن کار کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس نے اخلاقی برتری کو قائم رکھا اور خود کو ایک ذمہ دار اداکار کے طور پر پیش کیا۔
امریکی اداکار اور فلم ڈائریکٹر رابرٹ ریڈفورڈ 18 اگست 1936 کو پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا۔ ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد یونیورسٹی میں داخلہ لیا، مگر تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔ بعد میں نیویارک میں ایک اکیڈمی سے اداکاری کی تربیت حاصل کی۔
ریڈفورڈ نے 1960 کی دہائی کے ٹیلی ویژن ڈراموں سے اپنا کیریئر شروع کیا تھا مگر 1962 میں ایک فلم "وار ہنٹ” میں کام کرنے کا موقع ملا تو پھر ٹی وی کے لیے کام کرنا مشکل ہوگیا۔ ان کو اصل شہرت 1969 میں فلم "Butch Cassidy and the Sundance Kid” سے ملی۔ اس فلم نے انہیں بین الاقوامی شہرت دلائی۔ 1970ء کی دہائی ریڈفورڈ کے لیے ’’شہرت اور سنجیدگی‘‘ دونوں کی دہائی تھی۔ دی سٹِنگ (1973ء)، دی وے وی ور (1973)، دی کینڈڈیٹ (1972ء)،جیریمیہ جانسن (1972ء)، ،تھری ڈیز آف دی کونڈور (1975ء) اورآل دی پریذیڈنٹس مین (1976ء)، دی نیچرل (1984ء)، سنی کرز (1992ء)، اِن ڈیسنٹ پروپوزل (1993ء)، سپائے گیم(2001ء)، آل اِز لاسٹ(2013ء) اور کیپٹن امریکہ: دی ونٹر سولجر (2014) نے پوری دنیا میں ان کے فن کی دھاک بٹھا دی۔
1980ء میں ریڈفورڈ نے بطور ہدایت کار فلم ’’آرڈنری پیپل‘‘ بنائی جس نے نہ صرف فلم بینوں کو متاثر کیا بلکہ اس پر اکیڈمی ایوارڈ بھی ان کے نام کیا گیا۔
ہالی وڈ کے اس باکمال اداکار اور فلم ڈائریکٹر کو ایسا روایت شکن کہا جاتا ہے جس نے فلمی کہانی کو محض تفریح نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھا اور اس کے ذریعے نئی نسل کو پیغام دینے کی کوشش کی وہ سینما کو تحریک کے طور پر استعمال کرنے کے قائل تھے۔ ان کو متعدد فلمی اعزازات دیے گئے جن میں آسکر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ (2002) اور متعدد گولڈن گلوب کے علاوہ صدارتی تمغائے آزادی بھی شامل ہے جو 2016 میں امریکی صدر باراک اوباما نے دیا تھا۔
رابرٹ ریڈفورڈ ایک سماجی کارکن، ماحولیاتی تحفظ کے اور انسانی حقوق کے علم بردار تھے۔ انھوں نے اپنی فلموں کے ذریعے نئی نسل کی فکری راہ نمائی اور فنی تربیت کی کوشش کی۔ ریڈفورڈ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ صرف شہرت کے خواہاں کبھی نہیں رہے بلکہ ان کا مقصد معاشرتی شعور اجاگر کرنا اور فن و اظہار کی آزادی کو سنیما کے ذریعے یقینی بنانا تھا۔
رواں سال 16 ستمبر کو وفات پانے والے رابرٹ ریڈفورڈ کی زندگی کا ایک واقعہ ان کے فن و کردار کی سچائی کا ثبوت ہے۔
1973 میں ریڈفورڈ نے فلم "The Way We Were” میں باربرا اسٹریسینڈ کے ساتھ مرکزی کردار ادا کیا۔ یہ ایک جذباتی رومانوی فلم تھی جس میں دو مختلف مزاج کے افراد کے مابین محبت اور پھر جدائی کو عکس بند کیا گیا تھا۔
اس فلم کے آخر میں مرکزی کرداروں کے دوبارہ ملاپ کا منظر تھا۔ دونوں کردار ایک طویل عرصہ بعد ایک کیفے میں اچانک ملتے ہیں۔ فلم کے ہدایت کار اور پروڈیوسرز چاہتے تھے کہ اس موقع پر وہ (کردار) ایک دوسرے کو گلے لگائیں اور آنسو بہائیں اور اس منظر کو جذباتی بنائیں۔ مگر رابرٹ ریڈفورڈ نے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا:
"یہ فلم حقیقی زندگی کی عکاسی کرتی ہے، اور اس میں ہر ایسا جذباتی لمحہ صرف آنسوؤں اور گلے ملنے سے مکمل نہیں ہوتا۔”
ریڈفورڈ کے اصرار پر اس منظر کو بغیر جذباتی انداز کے خاموشی سے فلمایا گیا اور انھوں نے ڈائریکٹر سے کہا کہ اس میں صرف ایک نظر، ایک ہلکی سی مسکراہٹ، اور ان کہے جذبات شامل کیے جائیں۔ ہدایت کار نے ریڈفورڈ کی بات مان اور وہ منظر فلم کا سب سے یادگار، پُراثر اور حقیقت سے قریب تر منظر بنا۔
یہ واقعہ ریڈفورڈ کی سوچ اور ان کی شخصیت کا بہترین اظہار تھا جسے فلمی دنیا میں آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


