site
stats
انٹرٹینمںٹ

اسٹیج ڈرامے میں روبوٹ کی اداکاری

لندن: تیز رفتار جدید ٹیکنالوجی دنیا بھر میں نئے نئے انقلاب برپا کر رہی ہے۔ مختلف شعبہ جات میں روبوٹس سے کام لینا بھی پرانی بات بن چکی ہے، اور اب حال ہی میں ایک تھیٹر ڈرامے میں ایک روبوٹ نے اداکاری کے جوہر بھی دکھائے۔

لندن میں ہونے والے اسٹیج پلے اسپلیکن میں روبوٹ کی عمدہ کارکردگی نے شائقین کے دل موہ لیے۔ ہدایت کار جان ویلچ کے پیش کردہ ڈرامے کی کہانی ایک بیوہ عورت اور اس کے ساتھ رہنے والے روبوٹ کے گرد گھومتی ہے۔

یہ روبوٹ اس کے شوہر نے اس مقصد کے لیے بنایا ہوتا ہے کہ اس کے مرنے کے بعد وہ اس کی بیوی کے ساتھ رہے اور اس کا دل بہلاتا رہے۔

robot-2

لوگوں نے ڈرامے کے اس عنصر کو فن، محبت اور جدید ٹیکنالوجی کا بہترین امتزاج قرار دیا۔

ڈرامے کے ہدایت کار جان ویلچ کا کہنا ہے کہ اسٹیج پر پیش کی جانے والی روبوٹ کی تمام پرفارمنس بشمول اس کی حرکات و سکنات اور ڈائیلاگز پہلے سے روبوٹ میں فیڈ کردیے گئے ہیں۔

روبوٹ کے سسٹم کو ایک لیپ ٹاپ سے منسلک کیا گیا ہے جو بیک اسٹیج بیٹھنے والے افراد کنٹرول کرتے ہیں۔ ان کا کام صرف اتنا ہے کہ وہ روبوٹ کی پرفارمنس پر نظر رکھیں کہ آیا وہ درست طریقے سے کام کر رہا ہے یا نہیں۔ اگر کوئی تکنیکی خرابی رونما ہوتی ہے تو فوری طور پر اسے ٹھیک کیا جائے۔

دوسری جانب روبوٹ کے ساتھ اداکاری کا مظاہرہ کرنے والی اداکارہ جوڈی نورمن کا کہنا ہے کہ روبوٹ کے ساتھ اداکاری کرنا عجیب تو ہے لیکن یہ ان کے لیے نہایت انوکھا تجربہ ہے۔

robot-3

وہ بتاتی ہیں کہ ڈرامے کے دوران روبوٹ اور وہ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں، ایک دوسرے کو چھوتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں۔ ’کسی انسان کی جگہ ایک مشین کی موجودگی بہت عجیب بات ہے لیکن بہرحال یہ ایک منفرد تجربہ ہے‘۔

ڈرامے میں روبوٹ کی موجودگی کی وجہ سے اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوگیا ہے اور لوگ اسے دیکھنے کے لیے جوق در جوق یہاں کا رخ کر رہے ہیں۔

یہ اسٹیج ڈرامہ 19 مارچ تک لندن میں پیش کیا جائے گا، بعد ازاں اسے دوسرے شہروں میں بھی لے جایا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top