The news is by your side.

Advertisement

میانمار حکومت نے روہنگیائی مسلمانوں پرمظالم کو مسترد کردیا

رخائن : روہنگیا میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے ثبوت میانمار کی حکومت کو نظر نہ آئے، کمیشن کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کی نسل کشی کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور نہ ہی ریپ کے الزامات سے متعلق فراہم کیے گئے ثبوت مکمل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق میانمار کی حکومت کی جانب سے قائم کیے جانے والے ایک کمیشن کا کہنا ہے کہ اسے ریاست رخائن میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

اپنی عبوری رپورٹ میں کمیشن کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر ریپ کے الزامات کی حمایت کے لیے ناکافی ثبوت تھے۔ کمیشن نے برما کی سکیورٹی افواج کی جانب سے لوگوں کو مارنے کے دعوؤں کا ذکر نہیں کیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق کمیشن نے اپنی عبوری رپورٹ میں نسلی کشی کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ کمیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے پاس اس بات کے ‘ناکافی ثبوت’ ہیں کہ سکیورٹی فورسز نے کسی کو ریپ کیا ہو۔

میانمار میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جُونا فشر کا کہنا ہے کہ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں سب سے زیادہ اہم بات جس کا کہیں ذکر نہیں کیا کہ برما کی سکیورٹی فورسز عام شہریوں کو ہلاک کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں : میانمار فوج روہنگیا مسلمانوں پر بدترین تشدد کررہی ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

رواں ہفتے کے شروع میں میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر پولیس کے تشدد کی ویڈیو منظرعام آنے کے بعد کئی اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا تھا۔

رخائن میں صحافیوں اور تفتیش کاروں کا داخلہ بند ہے جس کی وجہ سے ان الزامات کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے۔ رخائن میں میانمار کی مسلمان روہنگیا اقلیت آباد ہے جس کا شمار دنیا کی سب سے زیادہ ستائی جانے والی اقلیتوں میں ہوتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں