site
stats
عالمی خبریں

میں نے گاؤں جلتے دیکھا،روہنگیا مسلمانوں پرمظالم کا آنکھوں دیکھا حال

لندن : برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ نے بتایا ہے کہ انہوں نے میانمار میں خود اپنی آنکھوں کے سامنے ایک گاؤں کو جلتے ہوئے دیکھا ہے, انہیں میانمار حکومت کی جانب سے چند صحافیوں کے ساتھ حالات کا جائزہ لینے کیلئے بلایا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کے پابند تھے کہ وہ صرف وہیں جا سکتے ہیں جہاں انہیں مقامی حکومت لے جائے صحافیوں نے کہیں اورجانے کی اجازت مانگی تو انہیں منع کردیا گیا۔

جوناتھن نے بتایا کہ وہ ماؤنگدا کے قریبی علاقے ال لے تھان کیاؤ سے لوٹ رہے تھے کہ ایک کھیت سے دھواں اٹھتا دیکھا۔ ہم اس طرف بھاگے تو وہاں خطرناک آگ لگی ہوئی تھی، بیس سے تیس منٹ میں پورا گاؤں راکھ ہوگیا۔

کچھ دیر میں وہاں سے چند نوجوان چھریاں، تلواریں اور غلیلیں تھامے نکلے، کیمرے پر نہ آنے کی شرط پر انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ وہ رخائن کے بودھسٹ ہیں، یہ آگ انہوں نے ہی لگائی ہے جس میں پولیس نے بھی ان کی مدد کی۔

صحافیوں کی ٹیم کو کچھ دور ایک اسلامی مدرسہ دکھائی دیا جس کی چھت جھلس رہی تھی، راستے میں کھلونے، خواتین کے کپڑے اور گھروں کا سامان بکھرا پڑا تھا، ایک جگ میں بچا ہوا پیٹرول بھی ملا۔

جوناتھن نے لکھا کہ جب تک وہ اس علاقےسے باہر نکلے تمام گھر سلگ رہے تھے کچھ ہی دیر بعد صرف سیاہ ڈھانچے باقی رہ گئے۔

واضح رہے کہ دو ہفتے قبل میانمار کے ریاست رخائن میں پھر سے بھڑک اٹھنے والے تشدد کے بعد سے اب تک ایک لاکھ 64 ہزار روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ میانمار کی فوج اور رخائن کے بودھ ان کے گاؤں کو تباہ و برباد کر رہے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top