پیر, جولائی 13, 2026
اشتہار

ایک فیصلہ کن جنگ کا تذکرہ جس نے قیصرِ روم کا غرور خاک میں ملا دیا

اشتہار

حیرت انگیز

"الوداع اے شام! تو کتنا اچھا مُلک ہے، جسے دشمنوں کے حوالے کرنا پڑا۔”

یہ الفاظ مشرقی رومی سلطنت کے شہنشاہ نے اس وقت کہے تھے، جب یرموک کی لڑائی میں شکست فاش ہو چکی تھی اور اسے صاف نظر آرہا تھا کہ کم از کم شام کا علاقہ ضرور چھوڑنا پڑے گا۔ جنگِ یرموک دنیا کی چند فیصلہ کُن لڑائیوں میں شمار ہوتی ہے۔ عربوں کے عروج اور رومیوں کے زوال میں میں اسے سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔

عرب دمشق کو فتح کرنے کے بعد تیزی سے بڑھتے چلے جا رہے تھے۔ اسی اثناء میں رومی سلطنت کہ شہنشاہ نے فوجیں جمع کرنے کا عام حکم دے دیا اور تھوڑی ہی دیر میں فوجوں کا طوفان اُمنڈ آیا جن کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ تھی۔ ان کے مقابلے میں عرب تیس پینتیس ہزار ہوں گے۔ اور وہ بھی مختلف محاذوں پر بکھرے ہوئے۔ ان حالات میں دانش مندی کا تقاضا یہی تھا کہ تمام سپہ سالاروں کو پیچھے ہٹ کر ایک موزوں مقام پر جمع کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ وہ متحد ہو کر لڑ سکیں اور دشمنوں کے علاقوں میں جا بجا محصور نہ ہو جائیں۔ اس غرض سے دریائے اُردن کی کی پہاڑیوں سے نکل کر بحیرۂ طبریہ کے نیچے دریائے اُردن میں مِل جاتا ہے (اور آج کل اُردن میں واقع ہے)۔ عربوں نے جن جن مفتوحہ علاقوں سے خراج کی رقم وصول کی تھی اور وہ کئی لاکھ تھی۔ پوری کی پوری مقامی لوگوں کو اس لیے واپس کر دی کہ وہ حفاظت کی غرض سے لی گئی تھی اور اب عرب جنگی حالات سے مجبور ہو کر پیچھے ہٹ رہے تھے اور حفاظت کا فرض سر انجام دے سکتے تھے۔ اس واقعے کا اثر اہلِ شام پر ہوا کہ وہ لوگ رو رہے تھے۔ایک شہر کے یہودی نے تورات پر حلف اُٹھایا کہ جب تک ہم زندہ ہیں رومی ہمارے شہر پر قبصہ نہیں کرسکتے۔ یہ فیصلہ کن معرکہ قادسیہ سے ایک سال پہلے 632ء میں لڑا گیا۔

عربوں کی فوج اگرچہ کم تھی، مگر رومیوں کو ان کی جاں بازی کا پورا اندازہ تھا۔ اس لیے انہوں نے کوشش کی عرب صلح پر راضی ہو جائیں۔ چنانچہ حضرت خالد رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ سامنے تجویز پیش کی کہ سپہ سالاروں کو دس دس ہزار دینار، افسروں کو ایک ایک ہزار دینار اور سپاہیوں کو ایک ایک سو دینار دیے جائیں گے۔ عرب واپس چلے جائیں، حضرت خالد نے انکار کر دیا اور کہا جو شخص اسلام قبول کر لے وہ ہمارا بھائی ہے۔ اگر یہ منظور ہو تو جزیہ دینے کا اقرار کر لو، ہم حمایت و حفاظت کا ذمہ لیتے ہیں، یہ بھی منظور نہ ہو تو لڑائی کے لیے تیار ہو جاؤ۔

رومی فوج بہت زیادہ تھی اور جوش کا یہ عالم تھا کہ کہ تیس ہزار آدمیوں نے پاؤں میں بیٹریاں پہن لی تھیں تاکہ ہٹنا چاہیں بھی تو نہ ہٹ سکیں۔ لڑائی بڑی سخت ہوئی۔ کئی مرتبہ عربوں کے مختلف دستوں کو پیچھے ہٹنا پڑا، آخر کار رومی ستّر ہزار جانوں کا نقصان اٹھا کر بھاگ نکلے۔ عربوں میں صرف تین ہزار شہید ہوئے۔

اس کے بعد تھوڑے ہی دنوں میں شام کے تمام شہر عربوں کہ قبصے میں آگئے اور رومی ہمیشہ کے لیے وہاں سے رخصت ہوگئے۔ اتنے تھوڑے عرصے میں شام، فلسطین جیسے اہم علاقوں کی تسخیر نے دنیا بھر میں عربوں کی دھاک بٹھا دی اور وہ بھی پورے اعتماد سے اپنی تقدیر کی شاہراہ پر گامزن ہو گئے۔

(اسلامی دنیا اور جنگ کے تاریخی واقعات سے لیا گیا)

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں