The news is by your side.

Advertisement

’کرسٹیانو رونالڈو کو ریپ کے الزامات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا‘

واشنگٹن: امریکی پراسیکیوٹر نے فٹبالر رونالڈو پر لگائے جانے والے ریپ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ شک کی بنیاد پر فیصلہ نہیں دے سکتے، ہمارے پاس کوئی مضبوط شواہد موجود نہیں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکی پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ پرتگال کے فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو کو مبینہ ریپ کے الزامات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، رونالڈو نے امریکی خاتون کی جانب سے لگائے گئے زیادتی کے الزامات کو مسترد کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت کی معلومات کا جائزہ لینے کے بعد کرسٹیانو رونالڈو کے خلاف جنسی حملے کے الزامات کو مناسب شک سے باہر ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے لہٰذا رونالڈو کے خلاف کوئی الزام نہیں ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق کیتھرین مے یورگا نے رونالڈو کے ساتھ 2010 میں عدالت سے باہر ایک معاہدہ کیا جس کے تحت رونالڈو نے خاتون کو 375000 ڈالرز ادا کیے جس کے عوض یہ طے ہوا کہ وہ اپنے الزامات کبھی منظرعام پرنہیں لائیں گی تاہم انہوں نے اس گزشتہ برس اس مقدمے کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: عراق میں رونالڈو کا ہم شکل میدان میں آگیا، لوگ حیران رہ گئے

دی کلارک کاؤنٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ متاثرہ خاتون نے 2009 میں جنسی حملے کی اطلاع دی تھی تاہم اس واقعے سے انکار کردیا کہ یہ کہاں ہوا یا حملہ آور کون تھا جس کے نتیجے میں پولیس معقول تحقیقات کرنے کے قابل نہیں تھی۔

لاس ویگاس کی پولیس نے اگست 2018 میں متاثرہ خاتون کی درخواست پر ایک بار پھر مبینہ جرم کی تحقیقات کیں۔

واضح رہے کہ جرمنی کے جریدے ڈر سپیگیل نے گزشتہ سال رونالڈو کے خلاف الزام لگانے والی خاتون کا انٹرویو شائع کیا تھا۔

یاد رہے کہ 34 سالہ کیتھرین مے یورگا نامی خاتون نے الزام عائد کیا تھا کہ رونالڈو نے 2009 میں امریکی شہر لاس ویگاس کے ایک ہوٹل میں انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں