The news is by your side.

Advertisement

فرانسیسی عدالت نے مرغے کی بانگ کے حق میں فیصلہ دے دیا

آئس لینڈ: فرانسیسی عدالت نے مرغے کی بانگ کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مرغے موریس کو بانگ دینے کا پورا حق ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مرغے (موریس) کی مالکہ کورین فساؤ کے ہمسایوں نے مرغے کے صبح سویرے بانگ دینے پر عدالت میں درخواست دائر کی تھی، عدالت نے موریس کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ مرغے کو بانگ دینے کا پورا حق حاصل ہے۔

مرغے کے کیس کے چرچے پوری دنیا میں تھے کیونکہ اس مقدمے کو فرانس میں دیہاتوں میں رہنے والوں اور چھٹیاں گزارنے کے لیے ان علاقوں میں گھر خریدنے والوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی کی علامت کے طور پر دیکھا جارہا تھا۔

مرغے کی مالکن فساؤ کے وکیل جولین پینینو نے بتایا کہ موریس جیت گیا اور اب شکایت کرنے والوں کو جرمانے کے طور پر فساؤ کو ایک ہزار یوروز دینے ہوں گے۔

مغربی فرانس کے روشفورٹ علاقے کی عدالت میں سنے جانے والے اس کیس کی سماعت کے دوران فساؤ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان کے علاقے اولرون جزیرے میں کبھی کسی نے موریس کے بارے میں شکایت نہیں کی، البتہ جب ایک ریٹائرڈ جوڑے نے ان کے برابر والا گھر چھٹیاں گزارنے کے لیے خرید لیا تو پھر شکایات شروع ہوگئیں۔

مزید پڑھیں: گڑ بڑ پھیلانے والے مرغے کے خلاف عدالت میں درخواست دائر

وسطی فرانس کے علاقے ہوٹ ویئن سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ کسان جان لویس بیرون اور ان کی اہلیہ جوئیل کا کہنا تھا کہ موریس کی اونچی بانگ سے وہ ہر صبح چار بجے جاگ جاتے ہیں۔

فساؤ نے کہا کہ انہوں نے کئی بار اپنے مرغے کو چپ کروانے کی کوشش کی، حتیٰ کہ اس کے ڈربے کو کالے کپڑے سے بھی لپیٹ دیا تاکہ اسے صبح ہونے کا پتا نہ چل سکے لیکن کوئی طریقہ کام نہ آیا۔

مرغے کی مالکن نے مقدمے کا فیصلہ سننے کے بعد خوشی میں مرغے کی بانگ کی آواز نکالی اور کہا خوشی بیان کرنے کے لیے ان کے پاس الفاظ نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ دو ہمسایوں کے درمیان شروع ہونے والا یہ تنازع جلد ہی ملک بھر میں اہمیت اختیار کرگیا تھا ایک لاکھ 40 ہزار افراد نے موریس کو بچاؤ پٹیشن پر دستخط کیے یا پھر اس کی تصویر والی ٹی شرٹس زیب تن کیں جن پر لکھا تھا مجھے بانگ دینے دو۔

عدالت نے بیرون کو ایک غیرسنجیدہ کیس لانے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ فریقین کو آپس میں ہی یہ مسئلہ سلجھا لینا چاہئے تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں